سپریم کورٹ کا لیز پر دی گئی سرکاری زمین پٹرول پمپوں سے واپس لینے کا حکم

نیشنل ہائی ویز اتھارٹی نے فیصل آباد میں گرین بیلٹ اور تفریحی پارک میں پٹرول پمپوں کو لیز پر زمین فراہم کردی، چیف جسٹس کا اظہار برہمی، تمام فلنگ سٹیشنز ختم کرنے کا حکم دے دیا

400

اسلام آباد :  سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی ( این ایچ اے ) کو فیصل آباد میں پٹرول پمپس کو لیز پر دی گئی سرکاری زمین واپس لینے کا حکم دے دیا۔

یہ حکم ملک کی سب سے بڑی عدالت کے تین رکنی بنچ جس کی سربراہی  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کررہے تھے نے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں ایک پٹرول پمپ گرین بیلٹ جبکہ ایک اور ایک تفریحی پارک کے احاطے میں قائم قائم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

حکومت نے ایف بی آر میں بطور چیف انفارمیشن آفیسر تعیناتی کے لیے نام شارٹ لسٹ کرلیا

سونے کے کاروبار اور سکینڈلز سے میڈیا ایمپائر تک،ARY  گروپ کے مشکوک عروج کی کہانی

سپریم کورٹ آف پاکستان کو بتایا گیا کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی نے فلنگ سٹیشنز کو لیز پر سرکاری زمین دے رکھی ہے۔

جس پر جسٹس قاضی امین  کا کہنا تھا کہ این ایچ اے قانون سے بالاتر نہیں ہے اور یہ کاروبار کے لیے لیز پرزمین دینےکی مجاز نہیں ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے اس موقع پر کہا کہ این ایچ اے نے گرین بیلٹس کی زمین پر ماہانہ تیس ہزار رینٹ پر پٹرول پمپ قائم کرنے کی اجازت کیسے دی ؟ فوری طور پر تمام سرکاری زمینیوں سے پٹرول پمپس ختم کیے جائیں، ہم اتنی کم قیمت پر سرکاری زمین لیز پر دینے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

عدالت نے معاملے پر پنجاب حکومت سے چار ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here