کارکے کیس : پاکستان کو جرمانے سے بچانے والی ٹیم کو ستارہ امتیاز دینے کا فیصلہ

ترک رینٹل پاور کمپنی کارکے ان بارہ کمپنیوں میں شامل تھی جسے 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے بجلی کی پیداوار کا ٹھیکہ دیا تھا، کرپشن کی بازگشت پر سپریم کورٹ نے رینٹل پاور معاہدے کلعدم قرار دے دیے جس پر کارکے نے پاکستان پر مقدمات دائر کردیے جن میں ملک کو بھاری جرمانے ہونے کا امکان تھا۔

436

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے کارکے کیس میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کے جرمانے سے بچانے والی ٹیم کو ملک کا سب سے بڑا سویلین اعزاز ستارہ امتیاز دینے کا اعلان کیا ہے۔

ملک کی عظیم خدمت کرنے والی اس ٹیم کو یہ اعزاز اگلے برس 23 مارچ  کو دیا جائے گا۔

کارکے ایک ترک رینٹل پاور کمپنی ہے اور اس ٹیم نے مخلتف ممالک اور غیر ملکی مالیاتی اداروں سے اس میں کرپشن کے ثبوت اکٹھے کیے اور اس معلومات کو پاکستان کو جرمانے سے بچانے کے لیے استعمال کیا۔

بریگیڈیئر رانا عرفان شکیل رامے، لیفٹیننٹ کرنل فاروق شہباز اور انٹرنیشنل ڈسپیوٹ یونٹ کے سربراہ احمد عرفان اسلم عظیم کارنامہ سرانجام دینے والی اس ٹیم کے ارکان میں شامل ہیں۔

یہ اس ٹیم کی جان فشانی پر مبنی محنت کا نتیجہ تھا کہ کارکے نے چھ مقدمات واپس لے لیے جن کی مد میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کا جرمانہ ہوسکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

’آئی پی پیز کو اُتنی ہی ادائیگی کی جائیگی جتنی بجلی قومی گرڈ میں جائے گی‘

کروڑوں یونٹس بجلی کی فراہمی کے باوجود خیبر پختونخوا نیٹ ہائیڈل منافعےکی ادائیگی کا منتظر

گزشتہ برس کارکے کی پاکستان کے خلاف شکایت پر انٹرنیشنل سنٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے پاکستان کو 760 ملین ڈالر بمعہ سود ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس حکم نامے پر عمل درآمد کروانے کے لیے کارکے نے پاکستان کے خلاف امریکا، جرمنی اور برطانیہ کا رُخ کیا تھا۔

حکم نامے پر عمل درآمد نہ کرنے پر پاکستان کے بیرون ملک موجود اثاثے ضبط کیے جاسکتے تھے جسکا ملک کو شدید معاشی نقصان ہوتا۔

کارکے ان بارہ کمپنیوں میں سے ایک ہے جنھیں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2009 میں بجلی کی پیداوار کے ٹھیکے دیے تھے ۔

ترک کمپنی کارکے نے 2008 میں متعارف کروائی جانے والی رینٹل پاور پالیسی کے تحت اپریل 2009 میں لاکھڑا پاور جنریشن کمپنی کے ساتھ اشتراک سے  سمندر میں کھڑے بحری جہاز پر بنے پلانٹ کے ذریعے 232 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

2012 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے رینٹل پاور منصوبوں پر از خود نوٹس لیتے ہوئے رینٹل پاور پالیسی کے تحت کیے جانے والے تمام معاہدوں کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

مزید برآں عدالت نے قومی احتساب بیورو کو ان منصوبوں کے حوالے سے تحقیقات کا بھی حکم دیا تھا جس پر نیب نے تحقیقات کا آغاز کیا اور کار کے کی پاور شپ کو پاکستان چھوڑنے سے روک دیا تھا۔

نیب تحقیقات میں کہا گیا کہ کارکے بحری جہاز کراچی کی بندرگاہ پر 2011 میں آیا  جس کا مقصد بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کرنا تھا۔

تاہم کارکے کے بحری جہاز نے کبھی 231 میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کی البتہ اسے استعداد کی مد میں نو ارب ڈالر پیشگی طور پر ادا کر دیے گئے تھے۔

نیب کا بتانا تھا کہ کارکے کے بحری پاور پلانٹ نے صرف تیس سے پچپن میگاواٹ بجلی پیدا کی اور وہ بھی 41 روپے فی یونٹ کے حساب سے جو کہ معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔

اپریل 2019 میں لائق  احمد شیخ جو کہ رینٹل پاور پلانٹ کیس میں نیب کی تحویل میں تھے نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کارکے اور حکومت پاکستان کے درمیان معاہدے کے لیے ساڑھے تین لاکھ روپےکی کک بیکس وصول کیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here