پولیس، ضلعی حکام کی رشوت ستانی پر پاک افغان تجارت سے منسلک تاجر پھٹ پڑے

اہم شاہراہوں یہاں تک کے طورخم بارڈر سے بھی گاڑی گزارنے کے لیے بھاری رشوت دینا پڑتی ہے، خیبر انتظامیہ مہینے بھر کے لیے گاڑی قبضے میں لے لیتی ہے جسے چھڑانے کے لیے تیس سے پچاس ہزار روپے دینا پڑتے ہیں، صورتحال پاک افغان تجارت کے لیے نقصان دہ، وزیراعظم، وزیر داخلہ اور افغان سفیر معاملے کا نوٹس لیں : تاجر و ٹرانسپورٹرز

70

پشاور :  افغانستان کے ساتھ تجارت سے منسلک تاجر اور ٹرانسپورٹرز نے خیبر پختونخوا کی ہائی ویز پر قائم سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر رشوت ستانی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کردی ہے۔

آل پاکستان افغان ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد نور احمد زئی کا کہنا تھا کہ ان چیک پوسٹوں پر سے گاڑی گزارنے کے لیے رشوت دینا پڑتی ہے۔

انہوں  نے مزید کہا کہ زانگلی ، کارخانو، زنگالی ، بڈابیر اور باڑا روڈ پر ہزروں ٹرک رکے ہوئے ہیں جنھیں صرف رشوت ادا نہ کرنے کی وجہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں اور ٹرانسپوٹروں کو روزانہ ہزاروں روپے کی رشوت دینی پڑتی ہے اور اس سلسلے کو روکنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس کا اثر پاک افغان تجارت پر پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

’پاک افغان تجارت پانچ ارب ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب ڈالر رہ گئی‘

انکا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت نے طورخم بارڈر کھول دیا ہے مگر پھر بھی وہاں سے گاڑیاں گزارنے کے لیے ایک لاکھ روپے دینے پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کے پی پولیس کی مدد سے ضلع خیبر کے حکام ہر ٹرک کو روکتے ہیں اور ایک ہزار روپے لینے کے بعد جانے کی اجازت دیتے ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ضلع خیبر کے حکام بعض دفعہ ایک ماہ کے لیے گاڑی قبضے میں لے لیتے ہیں جس کو چھڑوانے کے لیے  تیس سے پچاس ہزار روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

سی پیک پر پیشرفت سست ہوگئی؟ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا بڑا بیان سامنے آگیا

انہوں نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ  کرتے ہوئے پاکستان میں افغانستان کے سفیر سے بھی اس مسئلے میں مداخلت کی اپیل کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس وزیراعظم عمران خان نے پاک افغان تجارت کے لیے استعمال ہونے والی شاہراہوں پر سرکاری حکام کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو کاروائی کی ہدایت کی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here