کورونا کے سیاہ بادل چھٹنے لگے، ملک میں موٹرسائیکلز، رکشوں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ

213

کراچی: کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز میں کمی لاک ڈاؤن میں نرمی آنے سے گزشتہ ماہ سے پاکستان میں موٹر سائیکلز کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹرسائیکل اسیمبلرز (ایپما) کے چئیرمین محمد صابر شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں جولائی 2020ء کے دوران 3 لاکھ موٹر سائیکلز کی پیداوار اور فروخت ریکارڈ کی گئی۔

 تاہم پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے مطابق جولائی 2020ء کے دوران ملک میں موٹر سائیکلز اور رکشوں کی فروخت 31.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جو ایپما کی جانب سے بتائے گئے اعدادوشمار کا نصف ہے۔

یہ فرق اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ اکثر بڑی بائیک کمپنیاں (ہونڈا، یاماہا، سوزوکی، یونائیٹڈ اور روڈ پرنس) پاما کی رکن نہیں ہیں اس لیے ایسوسی ایشن کے پاس ان کے اعدادوشمار موجود نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

مالی سال 2020 کے دوران موٹرسائیکلز، رکشوں کی فروخت میں 23.11 فیصد کی کمی

کوریا جنوب مشرقی ایشیا کی آٹو انڈسٹری پر کیسے قبضہ جما رہا ہے؟

چئیرمین ایپما نے بھی اسی بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کیا کہ یونیک، سپر پاور، ہائی سپیڈ، یونین سٹار، سپر سٹار، ایکسپریس، ڈی وائے ایل، دھوم، زیمکو، سپرایشیا، نیو ایشیا اور دیگر آٹو اسیمبلر پاما کے اراکین نہیں ہیں اور ان کے اعدادوشمار انجنئیرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے پاس موجود ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اٹلس ہونڈا نے جون اور جولائی 2020ء میں باالترتیب 90 ہزار موٹرسائیکلز کی پیداوار اور فروخت کی، اسی لیے کورونا وائرس کی وجہ سے فروخت میں آنے والی کمی اب بحالی کی جانب گامزن ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here