کورونا وائرس کے وار، برطانیہ کساد بازاری کا شکار

اقتصادی شرح نمو جی ڈی پی کے 20 فیصد تک گر گئی، قومی ادارہ شماریات آج کسی وقت بھی اقتصادی انحطاط کی باقاعدہ تصدیق کر سکتا ہے

209

لندن: برطانیہ کے آج (بدھ کو) باقاعدہ طور پر کساد بازاری میں داخل ہوجائے گا جس کی وجہ کورونا وائرس کے نتیجے میں دوسری سہ ماہی کے دوران ملکی اقتصادی شرح نمو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 20 فیصد تک گرنا ہے۔

یہ 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد برطانیہ کی پہلی کساد بازاری ہو گی۔

برطانیہ کا قومی ادارہ برائے شماریات آج کسی وقت بھی اپنے اعداد و شمار میں رواں سال دوسری سہ ماہی کے دوران ہونے والے اقتصادی انحطاط کی باقاعدہ تصدیق کر سکتا ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاﺅن نے دوسرے ملکوں کی طرح برطانوی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا، کاروباری بندش سے گھریلو استعمال کی مصنوعات تک کی فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کا نتیجہ کساد بازاری کی صورت میں نکل رہا ہے۔

بلوم برگ کے سروے کے مطابق برطانیہ میں جنوری سے مارچ کے مقابلے میں اپریل سے جون کے عرصے میں اقتصادی شرح نمو میں 20.7 فیصد کمی ہوئی، پہلی سہ ماہی کے دوران اقتصادی شرح نمو میں کمی کی شرح 2.2 فیصد رہی تھی۔

پہلے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار میں اپریل کے دوران اقتصادی شرح نمو میں 20 فیصد کے قریب کمی اور مئی کے دوران لاک ڈاﺅن میں ہونے والی پہلی نرمی کے بعد صورتحال بہتر ہونے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

تاہم حکومت کی جانب سے اربوں پاﺅنڈ سٹرلنگ کے امدادی پیکج کے باوجود معاشی صورتحال بہتر نہ ہوسکی۔

دوسری جانب بینک آف انگلینڈ نے بڑے پیمانے پر اثاثوں کی خریداری کا آغاز کر دیا ہے جس میں سود کی شرح کو تاریخ کی کم ترین سطح پر رکھا گیا ہے۔

گزشتہ روز جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے بعد برطانیہ میں 7 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد ملازمتوں سے فارغ ہوئے جن میں مزید اضافے کا امکان ہے جس کے بعد ماہانہ حکومتی ریلیف پروگرام پر بوجھ بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب وزیر خزانہ رشی سنک اقتصادی بحالی کی رفتار بارے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ بینک آف انگلینڈ کے اراکین میں ملکی معاشی بحالی بارے وقت کے حوالے سے تقسیم واضح ہے۔

گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ میں بینک آف انگلینڈ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ملکی اقتصادی شرح نمو میں رواں سال 9.5 فیصد کمی کا عندیہ دیا تھا۔

 تاہم اس کا کہنا تھا کہ 2021ء میں صورتحال آہستہ آہستہ بہتر ہوگی جبکہ معیشت 2022ء سے قبل وباء سے قبل کی سطح پر واپس نہیں آئے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ کی دوسری سہ ماہی کے دوران اقتصادی شرح نمو میں کمی 20 فیصد سے زیادہ رہی تو سپین اور فرانس کی کارکردگی بھی خراب رہی ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here