خدا خدا کر کے بی آر ٹی پشاور مکمل ، وزیراعظم 13 اگست کو افتتاح کریں گے

متعدد ڈیڈ لائنز گزرنے کے بعد پی ٹی آئی کا فلیگ شپ منصوبہ بلآخر مکمل، عام لوگوں کے علاوہ طلبہ اور خواتین خصوصی طور پر مستفید ہونگے، حیات آباد سے چمکنی تک کا سفر پینتالیس منٹ میں طے ہوگا

153
APP40-20 PESHAWAR: January 20 - A view of BRT buses parked at the Chamkani Bus Terminal. APP photo by Shaheryar Anjum

پشاور : خیبر پختونخوا کے وزیر ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی حکومت کا میگا پراجیکٹ پشاور بس ریپیڈ ٹرانزٹ ( بی آر ٹی ) منصوبہ مکمل کر لیا گیا ہے اور وزیراعظم عمران خان جمرات 13 اگست 2020ء کو اس کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے بی آر ٹی پر کام  کا ہمہ وقت جائزہ لیا جس کی وجہ سے  یہ منصوبہ مزید کسی تاخیر کے مکمل کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک بڑا منصوبہ ہے جسے شفاف انداز میں تکمیل تک پہنچایا گیا ہے، اگر کسی کے پاس اس میں کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے، وزیراعلی کرپشن کے مرتکب کو خود سزا دیں گے۔

بی آر ٹی کے دورے کے موقع پر انہوں نے بتایا کہ منصوبہ عوام کے لیے کھولے جانے پر حکومت بی آر ٹی کی بسوں پر سفر کے لیے استعمال ہونے والے دو لاکھ کارڈز مفت جاری کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے: موٹر سائیکلوں، رکشوں اور بھاری کمرشل گاڑیوں سے متعلق الیکٹرک وہیکل پالیسی منظور

انہوں نے کہا کہ عام مسافروں کے علاوہ اس منصوبے سے طلبا اور خواتین کو بھی فائدہ ہو گا کیونکہ بی آرٹی کا سفر آرام دہ ہونے کے ساتھ محفوظ بھی ہے۔

اس موقع پر انہوں نے عام لوگوں سے ملاقات اور منصوبے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے علاوہ اس کے سنٹرل روم کا بھی دورہ کیا جہاں پورے بی آر ٹی منصوبے کی نگرانی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ بی آر ٹی کے ذریعے حیات آباد سے چمکنی تک کا سفر پینتالیس منٹ میں طے کیا جاسکے گا۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت کی سی پیک کے لیے آٹھ نئے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر منصوبوں کی پیشکش

واضح رہے کہ بی آر ٹی منصوبہ پی ٹی آئی کا فلیگ شپ منصوبہ  ہے جس کا اعلان جماعت کی صوبے میں گزشتہ حکومت میں کیا گیا تھا اور اس کا سنگ بنیاد سابق وزیراعلی پرویز خٹک نے رکھا تھا۔

انہوں نے دعوی کیا تھا کہ منصوبہ چھ ماہ کی ریکارڈ مدت میں پورا کیا جائے گا مگر جس منصوبے کو خود وزیراعلی کی دی ہوئی ڈیڈ لائن کے مطابق 2018 میں پورا ہونا تھا اسکی تکمیل ایسی  لٹکی کہ پی ٹی آئی کے لیے فخر کم اور شرمندگی کا سامان زیادہ بن گیا۔

ڈیزائن کی خامیوں، تبدیلی اور دیگر وجوہات کی بنا پرمنصوبے کی تکمیل کے لیے متعدد ڈیڈ لائنز دی گئیں مگر منصوبہ تھا کہ مکمل ہونے میں نہیں آرہا تھا مگر اب بلآخر کئی ڈیڈ لائنز گزر جانے کے بعد اس کے مکمل ہونے اور اسے عوام کے لیے کھولنے کی نوید سنادی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here