پھلوں کی برآمدات میں 3.80 فیصد، سبزیوں میں 27.95 فیصد اضافہ

472

اسلام آباد: گزشتہ مالی سال کے دوران پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات میں بالترتیب 3.80 فیصد اور 27.95 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان ادارہ برائے شماریات (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال میں جولائی تا جون 2019-20ء کے دوران پھلوں کی برآمدات سے 431.272 ملین ڈالر زرمبادلہ کمایا گیا ہے جبکہ جولائی تا جون 2018-19ء کے دوران پھلوں کی برآمدات کا حجم 415.497 ملین ڈالر رہا تھا۔

اس طرح گذشتہ مالی سال میں پھلوں کی برآمدات میں 15.775 ملین ڈالر یعنی 3.80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ مالی سال میں 8 لاکھ 7 ہزار 313 میٹرک ٹن پھل برآمد کئے گئے ہیں جبکہ اس سے گذشتہ مالی سال میں 7 لاکھ 55 ہزار 688 میٹرک ٹن پھل برآمد کئے گئے تھے۔

پی بی ایس کے مطابق گذشتہ مالی سال 2019-20ء کے دوران 8 لاکھ 36 ہزار 330 میٹرک ٹن سبزیوں کی برآمدات سے 299.290 ملین ڈالر زرمبادلہ کمایا گیا ہے جبکہ مالی سال 2018-19ء کے دوران سبزیوں کی برآمدات کا حجم 233.910 ملین ڈالر رہا تھا۔

اس طرح مالی سال 2018-19ء کے مقابلہ میں گذشتہ مالی سال 2019-20ء کے دوران سبزیوں کی برآمدات میں 65.380 ملین ڈالر یعنی 27.95 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پی بی ایس کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران چاول کی برآمدات بھی 5.12 فیصد کے اضافہ سے 2.096 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 2.175 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں۔

دوسری جانب گذشتہ مالی سال کے دوران کووڈ۔19 کی عالمی وبا کے نتیجہ میں غذائی اجناس کی مجموعی قومی برآمدات 5.38 فیصد کی کمی سے 4.607 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 4.361 ارب ڈالر تک کم ہوئی ہیں۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے بتایا کہ ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں تجارت سخت مشکلات کا شکار تھی اور لاک ڈائون کی وجہ سے مصنوعات کی ترسیل ممکن نہ تھی، پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایسوسی ایشن نے کورونا سے پیدا شدہ چیلنجز کو امکانات میں بدلنے کے لیے خصوصی حکمت عملی اختیار کی جس میں وفاقی حکومت نے بھی ایکسپورٹرز کا ساتھ دیا۔

پاکستان نے فضائی راستے سے ایکسپورٹ مشکل ہونے کے سبب زمینی اور سمندر کے راستے سے ایکسپورٹ کی حکمت عملی اختیارکی، افغانستان اور ایران کی منڈیوں پر توجہ دی گئی اور وفاقی حکومت نے بھی پی ایف وی اے کی نشاندہی پر فوری طور پر افغانستان اور ایران کے ساتھ ایکسپورٹ کے مسائل حل کیے جس سے ایکسپورٹ کو فائدہ ہوا۔

پاکستان نے گزشتہ سیزن نہ صرف کینو کی ایکسپورٹ کے امکانات سے فائدہ اٹھایا کورونا کی وبا سر اٹھا رہی تھی تو دنیا میں وٹامن والے پھلوں اور سبزیوں کی ضرورت تھی لیکن لاجسٹک کے مسائل درپیش تھے۔

پاکستان نے کینو کے علاوہ پیاز اور آلو کی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا اور کورونا کے عروج کے دوران دنیا میں پاکستان کے خوش ذائقہ اور غذائیت سے بھرپور آم ایکسپورٹ کیے۔

پی ایف وی اے کی کاوشوں سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے اپنا فریٹ کم کیا جس سے ایکسپورٹرز کو خلیجی ریاستوں اور متحدہ عرب امارات کی منڈیوں میں درپیش مسابقت کو آسان بنانے کا موقع ملا، اسی طرح بھارت کی جانب سے پیاز کی ایکسپورٹ بند کیے جانے اور پاکستان میں وفاقی حکومت کو پیاز کی ایکسپورٹ کھولنے کے لیے قائل کرکے پی ایف وی اے نے ایکسپورٹ میں اضافے کی راہ ہموار کی اور مقامی مارکیٹ میں بھی آلو اور پیاز کی قیمت میں استحکام رہا جس کی وجہ سے کاشکاروں کو بھی فائدہ پہنچا۔

وحید احمد نے کہا کہ پھل اور سبزیوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کا تسلسل نہ صرف جاری رکھا جائے گا بلکہ اس میں اضافہ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

اس مقصد کے لیے پی ایف وی اے نے فارم سے شیلف اور برآمدات کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا مرتب کردہ ہارٹی کلچر ویژن وفاقی حکومت کو پیش کردیا ہے جس کے تحت پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کے لیے قلیل مدت، وسط اور طویل مدت کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

ان اقدامات پر عمل کرکے پاکستان آئندہ دو سال میں پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ ایک ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے جبکہ پانچ سال میں برآمدات دو ارب ڈالر اور دس سال میںچھ ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here