پرافٹ کی خبر پر پٹرولیم ڈویژن کے ارادے ناکام، شاہد محمود خان ایم ڈی پارکو تعینات

پٹرولیم ڈویژن نے وفاقی وزیر توانائی کے قریبی احسن خان کو پاک عرب ریفائنری کا مینجنگ ڈائریکٹر تعینات کروانے کے لیے پوری پلاننگ کر رکھی تھی جنھیں کنسلٹنسی فرم نے اس عہدے کے لیے غیر موزوں قرار دیا تھا، پرافٹ کے خبر بریک کرنے پر سارے انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے

90

اسلام آباد: پٹرولیم ڈویژن کی سفارشات رد کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے شاہد محمود خان کو ایم ڈی پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ ( پارکو ) تعینات کردیا ہے۔

شاہد محمود ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں جو فنانس، جنرل میجنمنٹ، کارپوریٹ پلاننگ، پٹرولیم سیکٹر میں بزنس ڈیویلپمنٹ، آٹو موبیل اور اکاؤنٹینسی کے شعبہ جات میں 30 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔

وہ ان دنوں پارکو کوسٹل ریفائنری کے ساتھ پراجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے سے حکومت اگست میں چار ارب روپے اضافی کمائے گی

قریشی کے بیان کا رد عمل، سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی بند، قرضہ واپس مانگ لیا

 اس سے پہلے پرافٹ نے اپنے ذرائع سے خبر دی تھی کہ پٹرولیم ڈویژن پارکو کے ایم ڈی کے لیے اپنا منظور نظر بندہ تعینات کروانے کے لیے کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے حتمی نام کی منظوری کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

اس کمیٹی کے روبرو احسن خان کا نام بھی پیش کیا گیا تھا جن کے وفاقی وزیر توانائی کے ساتھ تعلقات ہیں اور پٹرولیم ڈویژن انہیں ہی ہر صورت پارکو کا اگلا ایم ڈی بنوانا چاہتا تھا۔

واضح رہے کہ ایک کنسلٹنسی فرم سدات حیدر مرشد ایسوسی ایٹس احسن خان سمیت دو دیگر افراد کو پارکو کے ایم ڈی تعینات کرنے کے حوالے سے غیر موزوں شخصیات قرار دے چکی تھی۔

اس کے باوجود پٹرولیم ڈویژن نے ایک اعلی سطحی انٹرویو کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیر توانائی عمر ایوب سمیت وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کو شامل کیا گیا تاکہ احسن خان کی تعیناتی کے لیے راہ ہمورا کی جاسکے۔

تاہم وفاقی کابینہ نے پٹرولیم ڈویژن کی سفارشات پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔

ذرائع کا کابینہ اجلاس کا اندرونی احوال بیان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور وفاقی کابینہ ارکان نے پارکو کے اگلے ایم ڈی کے لیے ناموں کی فہرست میں ‘ غیر موزوں ‘ افراد کی شمولیت پر ناراضگی کا اظہار کیا اور شاہد محمود خان کے نام کی منظوری دے دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here