قریشی کے بیان کا رد عمل، سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی بند، قرضہ واپس مانگ لیا

مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق پاکستان کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب اور او آئی سی کے کردار پر تنقید کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں

1410

ریاض : مشرق وسطیٰ کے معروف جریدے ’مڈل ایسٹ مانیٹر‘ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کی کشمیر پر خاموشی پر تنقید کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی بند اور قرضے کی واپسی کا تقاضا کر دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے پاکستان کے مرکزی بنک میں رکھوائے جانے والے اپنے 3 ارب ڈالرز میں سے ایک ارب ڈالر واپس مانگ لیے تھے۔

ایسا پاکستان کی جانب سے  کشمیر کے معاملے پر کردار ادا کرنے کے مطالبے اور اس ’دھمکی‘ کے بعد کیا گیا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا ساتھ نہ دیا تو اس کے بغیر بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں خرابی کا آغاز تب ہوا جب سعودی عرب نے پاکستان کی درخواست پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ  کا اجلاس بلانے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: اُدھار پر تیل کی فراہمی، پاکستان سعودی عرب کی جانب سے معاہدے کی تجدید کا منتظر

تاہم پاکستان کی جانب سے او آئی سی سے کشمیرکے معاملے میں کردار ادا کرنے کی بار بار درخواست کی جاتی رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ ” میں نہایت احترام کے ساتھ ایک بار پھر او آئی سی سے کہنا چاہتا ہوں کہ کشمیرکے مسئلے پر تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس سے ہماری اُمیدیں جڑی ہیں۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ’اگر مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ نہ دیا گیا تو میں وزیراعظم عمران خان سے کہوں گا کہ ان اسلامی ممالک کا اجلاس بلایا جائے جو ہمارے ساتھ کھڑے ہونے اور مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی، جس پر سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا بہت اثرورسوخ ہے، کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لیڈر شپ لینی چاہیے۔ ’ہمارے بھی مسئلے ہیں اور آپ ( او آئی سی ) کو اس چیز کا احساس ہونا چاہیے۔‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان دونوں ممالک کے تعلقات کو کشیدہ کرسکتا ہے اور انہیں خود بھی اس چیز کا احساس ہے۔

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا ’یہ درست ہے کہ اس طرح کی بات سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں اور میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات کے باوجود یہ کہہ رہا ہوں مگر ہم کشمیریوں پر ہونے والے ظلم پر مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔‘‘

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاشی، تجارتی اور عسکری لحاظ سے تاریخی تعلقات ہیں مگران میں تازہ کشیدگی نے بہت سے حلقوں کو پریشان کر دیا ہے۔

خاص طور پر پاکستان میں بہت سے لوگ صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ ملک گزشتہ کچھ سالوں سے سنگین معاشی بحران کا شکار ہے جس سے نکلنے کے لیے اسے سعودی عرب کی جانب سے کافی مدد ملتی رہی ہے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ سعودی عرب کو واپس کیے جانے والے ایک ارب ڈالر کی وجہ تعلقات میں کشیدگی نہیں ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق سعودی عرب کو اس رقم کی واپسی کے لیے ایک ارب ڈالر چین سے حاصل کیے گئے تھے اور چین کی جانب سے مزید مالی مدد ملنے پر پاکستان سعودی عرب کے بقیہ دو ارب ڈالر بھی واپس کر دے گا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کے مطابق ادھار تیل کی فراہمی کی مدت میں دو سال کا اضافہ کیا جاسکتا ہے مگر سعودی حکومت  نے رواں برس مئی میں معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے پاکستان کو ادھار پر تیل کی فراہمی بند کردی تھی۔

موجودہ حالات میں ایک طرف آئی ایم ایف پروگرام کی پانچ ماہ کے لیے معطلی اور دوسری طرف قرض ادائیگیوں نے پاکستان کو شدید معاشی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here