موڈیز : پاکستان کی بی تھری ریٹنگ برقرار، آؤٹ لک مستحکم کردی گئی

کورونا وبا کے باعث معیشت کو درپیش چیلنجز برقرار رہیں گے، وبا کے معاشی اثرات سے باہر آنے میں وقت لگے گا، 2020-21 میں پاکستان کی گروتھ مثبت رہے گی مگر یہ ایک اور منفی دو فیصد کے درمیان ہوگی : عالمی ریٹنگ ایجنسی

210

لاہور : ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے  کمی کے مقصد سے جائزہ لینے کے بعد پاکستان کی ریٹنگ بی تھری رکھنے کے علاوہ ملک کی آؤٹ لک کو بھی مستحکم قرار دیا ہے۔

سٹیبل آؤٹ لک کا مطلب ہے کہ کورونا وبا کے تناظر میں پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز اپنی جگہ موجود رہیں گے۔

ایجنسی کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ مالی سال 2020-21 میں پاکستان کی گروتھ مثبت رہے گی مگر یہ ایک اور منفی دو فیصد کے درمیان ہوگی اور ملک میں کاروبار کو وبا سے پہلے والی سطح پر آنے میں ابھی وقت لگے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا کے باعث ترسیلات زر میں کمی پاکستان کے معاشی زوال میں تیزی لائے گی : موڈیز

ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کیلئے گوگل کا بھارت میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان

جس کی وجہ سے حکومتی ریونیو پر اثر پڑے گا اور مالی خسارہ رواں مالی سال جی ڈی پی کے آٹھ سے ساڑھے آٹھ فیصد کے برابر ہوگا۔

مزید براں مالی سال 2021 کے اختتام تک حکومتی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے نوے فیصد کے برابر ہوجائے گا۔

تاہم بیرونی مالی معاونت کے حصول میں کمی آئے گی جس کی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی ہے جو کہ گزشتہ دو برسوں سے جاری میکرو اکنامک اصلاحاتی پالیسیوں اور کرنسی کی قدر میں لچک کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

موڈیز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے دو فیصد کے برابر رہے گا۔

بیلنس آف پیمنٹس میں استحکام آنے سے سٹیٹ بنک مانیٹرنگ پالیسی کو موافق سطح پر برقرار رکھ سکے گا تاہم کورونا وبا کے باعث پاکستان میں معاشی سرگرمیاں سست پڑگئی ہیں جس کی وجہ سے ٹیکس ریونیو میں کمی، مالی خسارے اور قرضوں کے بوجھ میں اضافے جیسے معاملات درپیش رہیں گے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کی آئی ایم ایف کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے ساتھ کمٹمنٹ  نہ صرف معاشی اصلاحات لانے میں مدد دے گی بلکہ اگلے بارہ سے اٹھارہ ماہ تک مالی ضروریات پوری کرنے میں بھی معاون ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here