مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، سندھ حکومت کی اوگرا آرڈیننس میں تجویز کردہ ترمیم پر غور

مشترکہ مفادات کونسل نے وزارت پیٹرولیم کو ذمہ داری سونپی کہ صوبوں کو اوگرا کے حوالے سے اپنا اِن پٹ دینے کے لئے موزوں میکنزم کے امکان کا جائزہ لیا جائے

61
وزیر اعظم عمران خان مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 42 واں اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں سندھ حکومت کی جانب سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری آرڈیننس 2002ء میں تجویز کردہ ترمیم کا جائزہ لیا گیا۔

مشترکہ مفادات کونسل نے وزارت پیٹرولیم کو ذمہ داری سونپی کہ صوبوں کو اوگرا کے حوالے سے اپنا اِن پٹ دینے کے لئے موزوں میکنزم کے امکان کا جائزہ لیا جائے۔

اجلاس میں حکومت پنجاب کی جانب سے چشمہ رائٹ بینک کینال زیریں حصے کا کنٹرول وزارت آبی وسائل سے پنجاب حکومت کے حوالے کرنے کی درخواست کا جائزہ لیا گیا۔

مشترکہ مفادات کونسل نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس حوالے سے ارسا، حکومت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جو اس ضمن میں طریقہ کار اور دو صوبوں کے درمیان دوطرفہ معاہدے کو حتمی شکل دے گی۔

اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی اور بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کے مستقبل میں کردار اور کام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس حوالے سے اصولی فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی اور بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز، اساتذہ اور طلباء کو وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت سے متعلقہ صوبوں و علاقوں کو منتقل کر دیا جائے۔ یہ عمل رواں مالی سال کے اختتام سے قبل مکمل کیا جائے گا۔

اجلاس نے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو اس حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کے ساتھ پلان تیار کر کے مشترکہ مفادات کونسل کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں کوویڈ 19 سے نمٹنے کے لئے اختیار کی گئی حکومتی حکمت عملی بھی پیش کی گئی جسے مشترکہ مفادات کونسل نے سراہا۔

ونڈ فال لیوی کو تقسیم کرنے کے معاملے پراجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹرولیم پالیسی 2012ء کے تحت خام تیل، کنڈینس و قدرتی گیس پر وِنڈ فال لیوی کی مد میں وصولیوں کا 50 فیصد حصہ متعلقہ صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

اجلاس نے سال 2017-18, 2018-19 اور 2019-20 کی سالانہ رپورٹس سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دی۔ اجلاس میں مشترکہ مفادات کونسل کے 41 ویں اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا۔

 1991ء کے پانی کے معاہدے کے بارے میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کی سفارشات کے جائزہ کے دوران مشترکہ مفادات کونسل کو بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ٹیکنیکل ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو صوبوں کے مابین پانی کی منصفانہ تقسیم کے معاملے کو دیکھے گی۔

مشترکہ مفادات کونسل نے کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر اپنا کام مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کے حوالے سے پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مشترکہ مفادات کونسل نے متفقہ طور پر متبادل و قابل تجدید توانائی پالیسی 2019 کی منظوری دی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم نے اجلاس کو گیس کی طلب و رسد، مستقبل کی ضروریات اور مقامی ذخائر کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کو موسم سرما 2020-2021 تک گیس کی بڑی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس لئے ممکنہ بحران سے بچنے کے لئے نئے ذخائر کی تلاش و پیداوار، مقامی گیس کی بچت اور پرائس میکنزم کو متناسب بنانے کے سلسلے میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر صنعتی ماہرین کی ایک سمٹ کا اہتمام کر رہی ہے جس میں صوبوں کی فعال شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here