’کاشتکاری کے بوسیدہ نظام سے گندم کی پیداوار میں 50 فیصد کمی‘

387

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ ہمیں گندم کی اعلیٰ پیداوار کی اقسام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ پرانی اور بیماری سے متاثرہ اقسام کو تبدیل کیا جاسکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گندم کی پیداوار میں اضافے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کے دوران بین الاقوامی مکئی اور گندم کی بہتری کے مرکز (سیمٹ) کے نمائندے ڈاکٹر محمد امتیاز نے بریفنگ دی۔

سید فخر امام کہا کہ ملک میں گندم کی پیداوار میں پیشرفت ضرور ہونی چاہئے۔ سائنس دانوں کو زیادہ محنت کرنی چاہئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بیج کی ویلیو چین کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں گندم کی بہترین قسم کا انتخاب کرنے اور بروقت کاشت کی ضرورت ہے۔ گندم کی فصل کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لئے کھاد، آب پاشی اور فنگسائڈز کا خیال رکھنا چاہئے۔ نقصانات سے بچنے کے لئے سٹوریج کے مناسب طریقوں پر عمل کرنا چاہئے۔

اس موقع پر ڈاکٹر ایم امتیاز نے گندم کی پیداوار میں اضافے کے لئے ممکنہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس حکمت عملی میں تین عوامل بشمول نئی اقسام کے بیجوں میں تیزی سے اضافہ، پیداوار کے فرق کو ختم کرنا اور اناج کی کم سے کم قیمت رکھنا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاشتکار 8 سے 10 سال پرانی اقسام استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پیداوار میں 50 فیصد فرق ہے۔ گندم کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے پروگرام (ڈبلیو پی ای پی) اور زرعی انوویشن پروگرام برائے پاکستان (اے آئی پی) نے پیداواریت پر مثبت اثرات مرتب کئے اور گندم کی پیداوار میں 12 فیصد سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس سے غذائی تحفظ کو تقویت ملی۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار مقامی بیج سسٹم کو مضبوط بنانے کے لئے سیمٹ نے 10 ہزار کسانوں کو گندم کے بیجوں کی پیداوار اور مارکیٹنگ کی معیاری تربیت دی ہے۔

سیمٹ نے این آر ایس پی کے ساتھ سیڈ بینکس کا آغاز کیا، 7 سیڈ بینک بھکر، پی ڈی خان، گوجر خان، چکوال، اٹک، میر پور خاص اور صوابی میں سرگرم ہیں۔ اس نے ان کی نئی جاری کردہ اقسام، بیج گریڈرز اور بیج کی پیداوار کے بارے میں تربیت میں مدد کی۔ ان بیج بینکوں سے مقامی کاشتکار معیاری بیج حاصل کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here