رواں سال جولائی میں سیمنٹ کی کھپت میں 38 فیصد اضافہ

101

کراچی:  نیا مالی سال سیمنٹ انڈسٹری کے لیے بہتری کا باعث بنا ہے اور سیمنٹ کی فروخت میں 37.75 فیصد اضافہ ہوا ہے جو جولائی 2019ء میں 3.512 ملین ٹن سے بڑھ کر جولائی 2020ء میں 4.838 ملین ٹن ہو گئی ہے جبکہ مقامی مارکیٹ اور برآمدات دونوں سمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کھپت میں اضافہ اس لیے بھی زیادہ تقویت کا باعث ہے کیونکہ سال 2019-20 ء میں صرف 1.98 فیصد اضافہ ہوا تھا اور وہ بھی برآمدات میں بہتری کی وجہ سے تھا جبکہ گزشتہ سال مقامی مارکیٹ میں 0.94 کمی واقع ہوئی تھی۔

آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق سیمنٹ کی مقامی کھپت جولائی 2020ء میں 32.67 فیصد اضافے کے بعد 3.953 ملین ٹن ہو گئی ہے جبکہ یہ گزشتہ سال جولائی 2019ء میں 2.979 ملین ٹن تھی۔

اسی طرح برآمدات میں 66.14 فیصد زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو بڑھ کر 0.885 ملین ٹن ہوگئیں جبکہ گزشتہ سال 0.533 ملین ٹن گزشتہ سال تھیں۔

شمالی زون میں قائم کارخانوں زیادہ بہتری دیکھنے میں آئی اور مقامی مارکیٹ میں 38.86 فیصد اضافہ ہو کر فروخت 3.435 ملین ٹن ہوگئی۔ یہ گزشتہ سال جولائی میں 2.474 ملین ٹن تھی۔

لیکن شمالی زون کی برآمدات مایوس کُن رہی ہیں، ان کارخانوں کی مجموعی برآمدات صرف 0.123 ملین ٹن ریکارڈ کی گئیں جو 46.93 فیصد کمی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ برآمدات 0.231 ملین ٹن تھیں۔

برآمدات میں کمی کی وجہ بھارت کے ساتھ تجارتی تناﺅ اور افغانستان میں تعمیری سرگرمیوں میں سُست روی ہے۔

جنوبی زون کی صورتحال اس حوالے سے بالکل مختلف رہی، جنوبی زون کی مقامی کھپت 0.518 ملین ٹن رہی جو معمولی 2.39 فیصد اضافہ ہے۔ گزشتہ سال مقامی کھپت اسی مدت کے لیے 0.506 ملین ٹن تھی۔

جنوبی زون کی برآمدات میں اضافہ بہترین رہا جو 152.97 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سیمنٹ کی برآمدات 0.762 ملین ٹن جنوبی زون کی مقامی کھپت سے 1.5 گنا زیادہ رہی ہیں۔ گزشتہ سال جنوبی زون کی برآمدات 0.301 ملین ٹن تھیں۔

آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ مایوس کن مالی سال کے بعد حالیہ بہتری انڈسٹری کے لیے حوصلہ افزاء ہے لیکن بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان نے انڈسٹری کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن اور پیداری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے، گھروں کی تعمیر کے منصوبوں سے تعمیری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ سرمایہ کاری میں اضافہ اور دیگر صنعتوں کو فروغ ملے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here