خیبر پختونخوا میں گندم کی قلت خطرناک حد تک پہنچ گئی

خیبر پختون خوا فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق صوبے کی گندم کی سالانہ ضرورت چھالیس لاکھ ٹن جبکہ اس وقت شارٹ فال بیس لاکھ ٹن ہے، صوبائی وزیر خوراک نے گندم کی قلت کی تردید کردی

82

پشاور : خیبر پختون خوا فلور ملز ایسوسی ایشن کےچئیرمین حاجی اقبال کا کہنا ہے کہ صوبے کی گندم کی سالانہ ضرورت چھالیس لاکھ ٹن ہے مگر فی الوقت بیس لاکھ ٹن کا شارٹ فال ہے۔

انکا کہنا تھا کہ گندم کا یہ بحران حکومت کی جانب سے وقت پر خریداری نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کے باعث فلورملیں ہڑتال پر چلی گئیں تھیں مگر بعد ازاں صوبائی حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے پر یہ ہڑتال ختم کردی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے آٹھ ماہ کے لیے خیبر پختونخوا کی گندم کی ضرورت تئیس لاکھ ٹن ہے جس میں سے تیرہ لاکھ ٹن پنجاب سے جبکہ باقی صوبے کے کاشتکاروں سے ہی خریدی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

وزیراعظم نے گندم کے ذخیرہ اندوزوں کےخلاف ڈنڈا اُٹھالیا ، زبردست ہدایات جاری

قلت سے بچنے کے لیے حکومت کا 14 لاکھ ٹن مہنگی گندم درآمد کرنے کا فیصلہ

انکا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گندم کا بحران پنجاب اور کے پی میں قیمتوں میں فرق کی وجہ سے پیدا ہوا۔  پنجاب میں گندم کی بوری کی قیمت 3500 روپے جبکہ خیبر پختونخوا میں 3900 روپے ہونے کی وجہ سے پنجاب میں کسانوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی۔

اُدھر صوبائی وزیر خوراک قلندر خان لودھی نے ایک بار پھر صوبے میں گندم کی قلت کی خبروں کو رد کردیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ صوبے کے محکمہ خوراک کے پاس 1 لاکھ 45 ہزار میٹرک ٹن گندم موجود ہے اور فلور ملوں کو یومیہ دو ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاسکو سے ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم کی ڈلیوری بھی جاری ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ پاسکو سے مزید تین لاکھ میٹرک ٹن گندم کی فراہمی کی بات چل رہی ہے اس کے علاوہ مزید تین لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے حوالے سے بھی کام کیا جارہا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے میں آٹے کی کوئی قلت نہیں اور پنجاب سے بھی گندم کی آمد شروع ہوگئی ہے جبکہ مارکیٹ میں بیس کلو والا آٹے کا تھیلا 860 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here