فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 42 اور پاکستان کسٹمز کے 17 افسران تین ماہ کے لیے معطل

تمام افسران کو گورنمنٹ سرونٹس رولز 1973 کے تحت معطل کیا گیا، پاکستان کسٹمز کے افسران ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ اور ماڈل کسٹم کلیکٹریٹ میں کام کر رہے تھے جبکہ ایف بی آر کے اہلکاروں کا تعلق لارج ٹیکس پئیر یونٹ سے ہے۔

147

اسلام آباد : فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنے مزید 42 اہلکاروں کو معطل کردیا

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے اسلام آباد لارج ٹیکس پئیر یونٹ اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو فہد فیضان خان  سمیت گریڈ سولہ کے چوبیس افسران کوگورنمنٹ سرونٹس رولز 1973 کے تحت تین ماہ کے لیے معطل کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

بینک اپنے اکائونٹ ہولڈرز کی معلومات ایف بی آر کو دینے سے گریزاں

اس کے علاوہ پاکستان کسٹمز کے بھی 17 افسران کو انہی قوانین کے تحت تین ماہ کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔

پاکستان کسٹم کےمعطل ہونے والےافسران ماڈل کسٹم کلیکٹریٹ کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، گوادر، کراچی اور ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ پشاور میں تعینات تھے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر میں تبدیلی کی ہوائیں، کئی افسران کے تبادلے کردیے گئے

اُدھر پاکستان کسٹمز نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے ملک بھر میں  شمگل شدہ اشیا کی ٹرانسپورٹیشن، سٹوریج، اور فروخت کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔

 ایف بی آر کے مطابق اس آپریشن کے تحت سمگل شدہ اشیا کی ذخیرہ گاہوں پر چھاپے مارے جانے کے علاوہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔

جس کے نتیجے میں جولائی کے مہینے میں 3 ہزار 800 ملین روپے کی سمگل شدہ اشیا قبضے میں لی گئیں ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here