ایف اے ٹی ایف سے متعلق دو بل قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی منظور

ایوان بالا نے انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020ء اور اقوام متحدہ (سکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020ء کی کثرت رائے سے منظوری دے دی

65

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایکشن پلان سے متعلق دو بل کثرت رائے سے منظور کر لیے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور اقوامِ متحدہ (سیکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020 پر ووٹنگ کروائی گئی اور انہیں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

سیینٹ اجلاس سے قبل سینیٹر جاوید عباسی کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا جس میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل اور اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل ترمیمی بل کو تفصیلی غور و خوص کرنے کے بعد منظور کیا گیا۔

ایوان میں قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 جبکہ مشیر پارلیمانی امور نے بابر اعوان نے اقوام متحدہ (سیکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020 پیش کیا۔

 چیئرمین سینیٹ نے شق وار منظوری کے لئے بل ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے وزیر خارجہ کی جانب سے تحریک پیش کی کہ اقوام متحدہ (سکیورٹی کونسل) ایکٹ 1948ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل اقوام متحدہ (سکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔

ایوان نے تحریک کی منظوری دی جس کے بعد انہوں نے یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ چیئرمین نے شق وار منظوری کے لئے بل ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے پارلیمان سے ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز پاس کروانے میں حکومت کی مدد کرنے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف احتجاج کیا اور مستقبل میں پارلیمان میں دونوں اپویشن جماعتوں کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا۔

جے یو آئی کے مولانا عطاء الرحمٰن نے کہا کہ جس طرح اپوزیشن جماعتوں نے بلز پر حکومت سے تعاون کیا وہ مایوس کن ہے جبکہ ہمارا مؤقف تک نہیں سنا گیا۔ کیا ہم قوم کے دشمن ہیں؟

ادھر سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اراکین سینیٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفاد کیلئے ایک ہیں۔

انہوں نے کہ سینیٹ نے دونوں بلز کی منظوری دے کر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے بلیک لسٹ کروانے کی بھارتی خواہش کو شکست دی ہے،           ہم پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر لانے کیلئے کوشاں ہیں اور سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد پر یکجہتی دکھاتے ہوئے اراکین سینیٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں تاہم آج پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے جس بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے وہی کسی بھی سٹیٹسمین کے شایان شان ہوتا ہے۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’امید کرتا ہوں جے یو آئی کے رہنما اپنی پوزیشن پر نظرثانی کریںگے، انہوں نے بلز کی مخالفت کرکے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کا تاثر دیا۔

شاہ محمود قریشی نے دونوں بلز پر اراکین سینیٹ کو اپنے اپنے اعتراضات پر نظرثانی کرنے کو کہا تاکہ بل ایک بار پر قومی اسمبلی میں بھیجے جا سکیں۔

بعد ازیں سینیٹ کی منظوری کے بعد دونوں بلز ایک بار پھر قومی اسمبلی میں بھیجے گئے جہاں کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here