دہری شہریت والے مشیر اور معاونین کا مستقبل کیا ہوگا؟ بات عدالت تک جا پہنچی

جسٹس پارٹی کے سربراہ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے کہ ایسے افراد جنھوں نے کسی اور ملک کے ساتھ وفاداری کا حلف بھی لے رکھا ہو انہیں حکومت میں اہم ذمہ داریاں اور حساس معلومات تک رسائی نہیں دینی چاہیے لہذا وزیراعظم کے دہری شہریت والے مشراء اور معاونین کو عہدے سے ہٹایا جائے

276

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کے دہری شہریت والے مشیروں اور معاونین کی تعیناتی کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا گیا۔

اس حوالے سے جسٹس پارٹی کے چئیرمین ملک منصف اعوان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ وزیراعظم کے کم ازکم چار ایسے مشیران اور معاونین خصوصی ہیں جو دہری شہریت رکھتے ہیں لہذا ایسے لوگ جنھوں نے کسی اور ملک کے ساتھ وفاداری کا حلف بھی لے رکھا ہو انہیں حکومت میں اہم عہدوں پر تعینات کر کے فیصلہ سازی میں شریک نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان مشیران اور معاونین کی تعیناتی کو ملکی مفاد کے پیش نظر کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ انہیں انتہائی حساس معلومات تک رسائی حاصل ہے جبکہ عدالتی فیصلہ آنے تک مذکورہ مشیران و معاونین کو کام سے روکنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیے:

این آئی آر سی چئیرمین کی مدت ملازمت میں دوسری توسیع، معاملہ کابینہ کے سپرد

کورونا ویکسین دنیا میں بلا معاوضہ دستیاب ہونی چاہیے، عمران خان سمیت 140 عالمی رہنماؤں کا مطالبہ

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے کابینہ میں شامل  15 مشیروں اور معاونین کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کی گئیں تھیں جس میں یہ چیز سامنے آئی تھی کہ ان میں سے سات افراد یا تو دہری شہریت رکھتے ہیں یا کسی دوسرے ملک میں مستقل رہائش کے حامل ہیں۔

معاملے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا اور وزیراعظم عمران خان دہری شہریت والے کابینہ ارکان کے حوالے سے اپنے ماضی کے مؤقف کی بنا پر مختلف حلقوں کی جانب سے ہدف تنقید بنے ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here