علیم خان سرکاری زمین پر قبضے کے مرتکب قرار، اسلام آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش

علیم خان نے پارک ویو ہا ؤسنگ سوسائٹی کو کری روڈ کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے اس سرکاری زمین پر روڈ تعمیر کی جو کہ اس مقصد کے لیے مختص ہی نہیں تھی : سی ڈی اے

176

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور پنجاب حکومت کے سینئیر وزیر عبدالعلیم خان کی جانب سے اپنی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی پارک ویو کو کری روڈ سے منسلک کرنے کے لیے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ انکشاف کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔

سی ڈی اے یہ رپورٹ دسمبر میں جمع کروانا چاہتی تھی مگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے غیر ضروری تاخیر پر سرزنش پر اسے مذکورہ رپورٹ 25 جولائی کو پیش کرنا پڑی۔

معاملے پر عبدالعلیم خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے اسی زمین پر سڑک تعمیر کی ہے جو اس کام کے لیے مختص تھی لیکن سی ڈی اے کی رپورٹ نے ان کے اسے دعوے کی نفی کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

اسلام آباد کو توسیع کی ضرورت ہے مگر ایک 60 سال پرانا بھوت اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا

اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاقی دارالحکومت میں پاک بحریہ کا غیر قانونی کلب سیل کرنے کا حکم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عبدالعلیم خان ہاؤسنگ سوسائٹی اور سی ڈی اے کی زمین کے درمیان کی زمین کے مالک نہیں ہیں۔

اس پر پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ جس روڈ کی تعمیر کے معاملے پر تنازع ہے وہ پہلے ہی سی ڈی اے کے پلان میں شامل تھی۔

سی ڈی اے کا اس پر کہنا تھا کہ اس روڈ کی تعمیر پر غور کیا گیا تھا مگر اس کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے اس زمین پر سڑک تعمیر کی گئی ہے جو کہ اس مقصد کے لیے مختص ہی نہیں تھی اور نہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو اس کے لیے این او سی جاری کیا گیا تھا۔

سی ڈی اے نے عدالت میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا کہ اس نے مئی 2018ء میں عبدالعلیم خان کو سڑک تعمیر کرنے دی، عدالت کو بتایا گیا ہے کہ سی ڈی اے بورڈ کے 9 مئی 2018ء کے اجلاس میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے ڈیویلپر کو این او سی کی شرائط پوری کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ عبدالعلیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی اور مین روڈ کے درمیان کوئی تعلق نہیں تھا جو کہ این او سی کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے لازمی تھا جس پر سی ڈی اے نے سڑک کی تعمیرکی اجازت دے دی جس سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے ڈیویلپر نے این او سی کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر سی ڈی اے ہاؤسنگ سوسائٹی کو سڑک کی تعمیر کی اجازت نہ دیتی تو این او سی کی شرائط پوری نہیں کی جا سکتی تھیں۔

تاہم جس زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی کے ڈیویلپر کی جانب سے سڑک تعمیر کی گئی وہ 2018ء کے آخر میں سی ڈی اے کو منتقل کی گئی تھی۔

گزشتہ سماعت پر عدالت نے سی ڈی اے کو ہاؤسنگ سوسائٹی کو سڑک کی تعمیر کی اجازت دینے کو جائز اقدام ثابت کرنے کی ہدایت کی تھی اور یہ کہا تھا کہ عدالت کو مطمئن کیا جائے کہ یہ معاملہ نیب کو کیوں نہ بھجوایا جائے؟

واضح رہے کہ عبدالعلیم خان کی پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی ایک نا قابل رسائی علاقے میں تعمیر کی گئی تھی اور سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق ڈیویلپر کو سوسائٹی تک رسائی کے لیے سرکاری زمین پر سڑک کی تعمیر کی اجازت جون 2018ء میں دی گئی اور اس وقت عثمان اختر باجوہ سی ڈی اے کے چئیرمین تھے۔

بعد میں چئیرمین سی ڈی اے افضل لطیف نے ہاؤسنگ سوسائٹی تک جانے والی سڑک کے استعمال کی اجازت بھی دے دی۔ اس معاملے کو سی ڈی اے کے پلاننگ ونگ کے سربراہ اسد محبوب کیانی کی جانب سے اُٹھایا گیا جو کہ اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔

معاملے کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری ہے جسے تین اگست تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here