سیمنٹ فیکٹریوں کے من مانے نرخوں کے خلاف حکومت، مسابقتی کمیشن اِن ایکشن

بجٹ میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کیے جانے کے باوجود سیمنٹ فیکٹریوں نے قیمتیں کم کرنے کے بجائے بڑھا دیں، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار کا نوٹس، مسابقتی کمیشن بھی سیمنٹ فیکٹریوں کے مبینہ گٹھ جوڑ کے خلاف متحرک

140

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے ملک کے شمالی ریجن، جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا شامل ہیں، میں سیمنٹ کی قیمتیں بڑھنے کا نوٹس لے لیا۔

25 جون سے  16 جولائی 2020ء کے عرصے میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیمنٹ کی پچاس کلو کی بوری کی قیمت میں 40 سے 45 روپے تک کا اضافہ ہوا۔

اسی طرح پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی سیمنٹ کی بوری 7 سے 26 روپے مہنگی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے : جون 2020 میں سیمنٹ کی برآمدات میں 46.5 فیصد اضافہ

اُدھر سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں سیمنٹ سستا ہوا ہے، کراچی میں سیمنٹ 11 روپے، حیدرآباد میں 30 روپے جبکہ کوئٹہ اور خضدار میں 10 روپے سستا ہوا۔

اس وقت اسلام آباد میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت 547 روپے، راولپنڈی میں 539 روپے، گجرانوالہ میں  553 روپے، لاہور میں 530  روپے، کراچی میں 681 روپے، لاڑکانہ میں 610 روپے اور خضدار میں 620 روپے ہے۔

23 جولائی کو ادارہ برائے شماریات نے سیمنٹ کی 50 کلو کی بوری کی قیمت 553 روپے بتائی تھی تاہم سیمنٹ انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ادارہ برائے شماریات کی جانب سے بتائی گئی قیمت بلند ترین قیمت ہے اور یہ برانڈز کی اوسط قیمت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے بجٹ 2020-21ء میں سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی فی کلو دو روپے سے کم کرکے ڈیڑھ روپیہ کر دی تھی جس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں 25 روپے کمی ہونی چاہیے تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔

اپریل کے آخری ہفتے میں سیمنٹ انڈسٹری نے 50 کلو کی بوری کی قیمت 55 روپے بڑھا دی تھی جس کی وجہ سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

مئی میں وزارت صنعت و پیداوار نے سیمنٹ انڈسٹری سے قیمتوں میں اس اضافے کو واپس لینے کی درخواست کی تھی مگر سیمنٹ فیکٹریوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ڈی جی خان سیمنٹ کو فلپائن سے برآمدی آرڈر موصول

ذرائع کا بتانا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے سیمنٹ فیکٹریوں کے مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

یاد رہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے اس سے پہلے بھی گٹھ جوڑ کرنے پر آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچورز ایسوسی ایشن کو 6.4 ارب روپے کا جرمانہ کیا تھا تاہم سیمنٹ فیکٹری مالکان نے کمیشن کی کارروائی کے خلاف عدالت سے سٹے آرڈر حاصل کرلیا جس کے باعث مذکورہ جرمانہ وصول نہیں کیا جا سکا۔

تاہم امکان ہے کہ 10 سال پرانے اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ سے آنے والے دنوں میں کوئی فیصلہ آ جائے گا۔

وزیر صنعت و تجارت کا سیمنٹ کی قیمتیں بڑھنے کے حوالے سے کہنا تھا کہ کچھ برانڈز نے  پنجاب اور خیبر پختونخوا میں  قیمتیں بڑھائی ہیں مگر سندھ اور بلوچستان میں قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی ہے تاہم وہ قیمتوں کے اس فرق کی کوئی وجہ بیان نہیں کرسکے۔

معاملے پر پرافٹ نے آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچورزایسوسی ایشن سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تاہم ایسوسی ایشن نے کوئی بھی بات کرنےسے انکار کر دیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here