خیبر پختونخوا میں تعمیراتی شعبے کے لیے پنجاب کی طرز پر ریلیف پیکج کا اعلان

ٹیکس ریلیف پیکج کے تحت ڈیڈ پر 0.5 فیصد رجسٹریشن فیس اور امووایبل پراپرٹی کے ٹرانسفر پر دو فیصد لوکل کاؤنسل ٹیکس ختم کرنے کے علاوہ تعمیراتی شعبے کی خدمات پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ اور صفر فیصد کیپیٹل ویلیو ٹیکس کی سہولت دی گئی ہے۔

58

پشاور : خیبر پختونخوا حکومت نے تعمیراتی شعبے کو ریلیف دینے کے لیے پراپرٹی ٹرانسفر پر آٹھ ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ منظور کرلی۔

ٹیکس ریلیف پیکج کے تحت ڈیڈ پر 0.5 فیصد رجسٹریشن فیس اور امووایبل پراپرٹی کے ٹرانسفر پر دو فیصد لوکل کاؤنسل ٹیکس ختم کردیا گیا۔

اس کے علاوہ صوبے میں تعمیراتی شعبے کو پنجاب کی طرز پر خدمات پر سیلز ٹیکس کی بھی چھوٹ دی گئی ہے۔

اس ٹیکس ریلیف پیکج میں صفر فیصد کیپیٹل ویلیو ٹیکس بھی شامل ہے جو کہ فنانس ایکٹ 2020-21 میں بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

لاک ڈاؤن، بجلی کی لوڈ شیڈنگ : خیبر پختونخوا کی فرنیچر کی صنعت تباہی کے دہانے پر آگئی

طورخم بارڈر سے تجارت : ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو بھاری نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف

خیبر پختونخوا حکومت کی دستاویزات جن کا تعلق اس ٹیکس ریلیف سے ہے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مشکل حالات میں تعمیراتی شعبے کو سہارا دینا ہے اور اس مقصد کے لیے ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کے لیے پنجاب حکومت کا ماڈل اپنایا گیا ہے۔

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ محکموں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد پراپرٹی ٹرانسفر سے متعلق ٹیکسوں کے حوالے سے ایک ماڈل تیار کیا گیا ہے جو کہ نہ صرف ٹیکسوں میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ ٹیکس جمع کروانے کے عمل کو بھی آسان بنادے گا۔

اس مشاورت کے دوران مقامی حکومتوں کے محکموں کی جانب سے ٹی ایم ایز کی کمزور مالی حالت کا معاملہ بھی اُٹھایا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ لوکل کاؤنسل فیس مکمل طور پر ختم نہیں کی جانی چاہیے۔

تاہم اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا  کہ ایف بی آر کی جانب سے جمع کی جانے والی سٹیمپ ڈیوٹی کا نصف مقامی حکومتوں کے محکموں کو ماہانہ بنیادوں پر ٹرانسفر کیا جائے گا تاکہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی سمیت دیگر اخراجات پورے کیے جاسکے۔

ادھر 23 جولائی کو وزیر اعلی خیبر پختون خوا کے معاون خصوصی برائے لوکل گورنمنٹ نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے ٹیکسوں میں ریلیف کے پیکج میں چار ارب روپے کا اضافہ کردیا ہے جس میں لوکل کاؤنسل ٹیکس ختم کرنا بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر عائد رجسٹریشن لائسنس ٹیکس بھی ایک سال کے لیے ختم کرنے کا اعلان کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کےاس اقدام سے سیاحت کی بحالی میں مدد ملے گی جسے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث شدید نقصان پہنچا ہے۔

 اسکے علاوہ صوبے میں سیاحت کو بحال کرنے کےلیے حکومت نے مختلف محکموں کے 85 گیسٹ ہاؤس محکمہ سیاحت کے حوالے کردیے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here