چینی ووہان لیب کی پاکستان میں مبینہ خفیہ سرگرمیوں سے متعلق غیر ملکی صحافی کی رپورٹ جعلی قرار

181

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے چینی ووہان لیبارٹری کی پاکستان میں مبینہ خفیہ سرگرمیوں سے متعلق غیر ملکی صحافی انتھونی کلیکسن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے انتھونی کلیکسن کی رپورٹ کو خود ساختہ، من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بائیو سیفٹی لیول ۔3 (بی ایس ایل۔3) لیبارٹری پاکستان کے بارے میں کچھ بھی خفیہ نہیں۔ پاکستان اعتماد سازی پر مبنی اقدامات کے طور پر لیب کے بارے میں حیاتیاتی اور مہلک ہتھیاروں کے کنونشن (بی ٹی ڈبلیو سی) کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ لیبارٹری کا مقصد بیماریوں سے متعلق تحقیقات، نگرانی اور صحت سے متعلق ابھرتے ہوئے خطرات کے حوالے سے تحقیق اور ترقی کے ذریعے ڈائیگناسٹک اور حفاظتی نظام کو بہتر بنانا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کے نیوز ادارے کلیکزون کی رپورٹ میں نامعلوم ‘انٹیلیجنس ماہرین’ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین کے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی نے ‘ہندوستان اور مغربی حریفوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کے ایک حصے کے طور پر پاکستان میں آپریشنز قائم کیے ہیں’۔

23 جولائی کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ ‘یہ خفیہ سہولت مبینہ طور پر اینتھراکس جیسے پیتھوجنز بنارہی ہے جسے بائیولوجیکل جنگ میں استعمال کیا جاسکتا ہے’۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان بی ٹی ڈبلیو سی کی ذمہ داریوں پر سختی سے کاربند ہے، کنونشن پر مکمل عملدرآمد کی غرض سے سخت میکنزم کو یقینی بنانے کی مکمل حمایت کرتا ہے تاہم کورونا وباء کے پس منظر میں رپورٹ کے ذریعے منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش مضحکہ خیز ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here