کوئلے کے بعد نمک کی کانیں بھی تھرپاکر کے باسیوں کی زندگیاں بدلنے میں ناکام

ضلع تھرپارکر میں کوئلے، گرینائٹ اور نمک کے بیش بہا ذخائر موجود‘ روزانہ ہزاروں ٹن نمک اندرون و بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے مگر مقامی مزدور حقیقی اجرت سے بھی لاعلم  ہیں

402
A pile of rough-hewn pink Himalayan salt cubes.

مٹھی: سندھ کے سب سے بڑے ضلع تھرپارکر میں کوئلے، گرینائٹ اور نمک کے بیش بہا ذخائر موجود ہیں‘ ان ذخائر کے باوجود یہاں پسماندگی، غربت، پینے کے پانی، صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تھرپارکر میں کوئلے کی طرح نمک کے بڑے ذخائر موجود ہیں‘ سینکڑوں ایکڑ پر محیط نمک کے ذخائر سے روزانہ ہزاروں ٹن نمک اندرون و بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے۔

پاکستان کو قیمتی غیرملکی زرمبادلہ فراہم کرنے والے نمک کے کاروبار کو صنعت کا درجہ نہ ملنے کے باعث یہ ذخائر عوام کیلئے خاطر خواہ سودمند ثابت نہیں ہو سکے ہیں‘ مناسب مواصلاتی رابطہ نہ ہونے کے باعث مقامی مزدور اپنی حقیقی اجرت سے بھی لاعلم ہیں اور چند روپوں کی خاطر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

تھرپارکر کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں ایک سو سے زائد نمک کی کانیں موجود ہیں جن میں سارن‘ سدہوئی‘ ڈاگو‘ گبھن‘ ھتھنی‘ ٹوبھو‘ ھتہرائی‘ گجیواری‘ گڑھو‘ سینگالو‘ جخنور‘ ٹیپاریو‘ موخائی‘ دونھائی‘ کونرل اور دوسری نمک کی کانیں شامل ہیں جہاں پر نمک کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور روزانہ ہزاروں ٹن نمک پاکستان سمیت بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔

نمک کی ان کانوں پر ہزاروں کی تعداد میں تھر سمیت ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے مزدور کام کر رہے ہیں‘ ماہرین کے مطابق تھرپارکر میں موجود کانوں کا نمک بہترین معیار کا ہے جو دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد ہو رہا ہے‘ یہ نمک معیاری ہونے کے باعث تمام دنیا میں بہت مشہور ہے۔

ماہرین کے مطابق تھرپارکر میں بارشیں ہونے کے بعد ان نمک کی کانوں میں پانی جمع ہوتا ہے اور کچھ وقت کے بعد وہ قدرتی نمک میں تبدیل ہوجاتا ہے‘ نملک کی کانوں کی زمین سیم زدہ ہونے کے باعث پانی نمک میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

تھرپارکر کے نمک کے کانوں کی لیز حکومت سندھ کا محکمہ مائنز اینڈ منرلز جاری کرتا ہے‘ لیز لینے والے ہر سال اراضی کے لحاظ سے مقرر کردہ رائلٹی کی رقم محکمہ مائنز اینڈ منرلز کو جمع کراتے ہیں۔

براعظم ایشیا کی مشہور نمک کی کان سارن کا سن بھی تھر میں موجود ہے، یہ کان تحصیل ڈیپلو سے مغرب کی طرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر سارن گائوں میں ہے‘ جہاں بہت سالوں سے نمک نکل رہا ہے۔

تھر میں سب سے پہلے نمک سارن کے سن سے نکلا اور وہ تھر کی قدیم کانوں میں سے ہے‘ جو 100 ایکڑ پر محیط ہے‘ سارن کے سن کا نمک صاف، شفاف اور اعلی معیار کا ہونے کے باعث مشہور ہے جس کی ملکی سطح پر بہت مانگ ہے‘ پورے ملک کے تاجر اور فیکٹری مالکان زیادہ تر اس نمک کی مانگ کرتے ہیں۔

تھرپارکر میں موکھائی نام سے نمک کی کان 250 ایکڑ‘ ڈاگو 150ایکڑ‘ ڈاگو ٹو 180 ایکڑ‘ ھتھنی 100 ایکڑ‘ ڈابھرو 150 ایکڑ پر محیط ہے۔

ماہرین معدنیات کے مطابق تھرپارکر کا نمک ملک کی کھاد اور چمڑے کی فیکٹریوں سمیت دنیا کے سرد ممالک کو بڑی مقدار میں برآمد ہو رہا ہے‘ تھر کا نمک کھاد بنانے میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں موجود کھاد کی مشہور اینگرو کمپنی بھی نمک تھر سے خرید کرتی ہے‘ اس کے علاوہ پورے ملک میں کھاد بنانے والی کمپنیوں کو بھی نمک تھر سے فراہم کیا جاتا ہے جبکہ کھانے پینے کیلئے بھی نمک مختلف شہروں میں بڑے مقدار میں دکانوں پر بھی فروخت ہوتا ہے۔

نمک جانوروں کی کھالوں کو بھی لگانے کے کام آتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے سرد ممالک برف کو پگھلانے کیلئے تھر کا نمک استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کو یہ نمک سستا مل رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here