وباء کی وجہ سے جنوبی ایشیاء میں صرف سیاحتی شعبہ میں ایک کروڑ افراد بے روزگار

ایشیائی ممالک کی جی ڈی پی کو وباء کے نتیجہ میں 52 ارب ڈالرکے نقصان کا اندازہ ہے، عالمی بینک

304

اسلام آباد: عالمی بینک نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کے خطہ میں صرف سیاحت کے شعبہ میں ایک کروڑ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں جبکہ خطہ کے ممالک کی جی ڈی پی کو اس کے نتیجہ میں 52 ارب ڈالرکے نقصان کا اندازہ ہے۔

یہ بات جنوبی ایشیاء کیلئے عالمی بینک کے نائب صدر ہارٹ ویگ شیفرنے اپنے ایک آرٹیکل میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ سب سے زیادہ متاثرہونے والے ممالک میں شامل ہے جہاں مجموعی قومی پیداوار میں سیاحت کا حصہ 60 فیصد کے قریب ہے۔

انہوں نے عالمی بینک کے جائزہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جنوبی ایشیاء کا خطہ سیاحت کے حوالہ سے اہم علاقہ ہے، پاکستان، نیپال اور بھوٹان میں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں ہیں، وباء کے نتیجہ میں جنوبی ایشیا میں صرف سیاحت کے شعبہ میں ایک کروڑ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔

ایشیائی ممالک کی جی ڈی پی کو اس کے نتیجہ میں 52 ارب ڈالر کے نقصان کا اندازہ ہے، سیاحت کی بندش سے بالخصوص وہ خواتین اور نوجوان زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو ہوٹلز، ریستورانوں، ٹور کمپنیوں اور سیاحت سے متعلق چھوٹے کاروبار سے منسلک تھے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبہ کو جلد اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا، اس کیلئے علاقائی تعاون اور اشتراک کے علاوہ سرکاری اور نجی شعبہ کو مل کر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

اس کے علاوہ سیاحتی مقامات کے حوالہ سے تحفظ صحت عامہ کے بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ خطہ کے ممالک کو اس ضمن میں کینیا، روانڈا اور یوگینڈا کی 2014ء میں مرتب کردہ حکمت عملی کو اپنانا چاہئیے جس میں سیاحوں کو تینوں ممالک میں بآسانی گھومنے پھرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ خطہ میں سیاحت کی مکمل بحالی میں 18 ماہ سے زیادہ کاعرصہ لگ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بدھ مت کے آثار کی سیاحت کے ضمن میں عالمی بینک ساوتھ ایشیا ریجنل ٹریڈ فیسلیٹیشن پروگرام کے ذریعہ معاونت فرام کررہا ہے، اس کے علاوہ عالمی بینک خطہ کے ممالک سیاحت کی وزارتوں ، بورڈز، اور ٹورسٹ بزنس گروپس کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here