مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں پر 1.5 ارب سیلز ٹیکس سبسڈی کی منظوری

110

اسلام آباد: حکومت نے مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں پر 1.5 ارب سیلز ٹیکس سبسڈی کی منظوری دے دی۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے جاری بیان میں میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے کووڈ 19 وباء کے تناظر میں 1200 ارب سے زائد کے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا جس میں زراعت کے لئے 50 ارب رکھے گئے تھے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 13 مئی کو منعقدہ اپنے اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی پیش کردہ تجاویز کی منظوری دی۔

ایک سال کے لئے مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں کو 5 فیصد سیلز ٹیکس کی سبسڈی دی جائے گی۔ اس وقت ہر ٹریکٹر کی فروخت پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہے۔

پاکستان میں مینوفیکچرنگ کے دو اہم یونٹ ہیں۔ میسی فرگوسن اور الغازی کا مارکیٹ شیئر بالترتیب 60 فیصد اور 40 فیصد ہے۔ اس وقت ہر ٹریکٹر کی فروخت پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔

2019ء کے دوران دونوں یونٹوں کی سالانہ فروخت 41000 یونٹ تھی اور اوسط سیلز ٹیکس 60.000 روپے فی ٹریکٹر ہے۔

مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں کو سیلز ٹیکس کی سبسڈی ایک سال کے لئے دی گئی ہے۔ سبسڈی کی کل لاگت ڈیڑھ ارب روپے ہے۔

سبسڈی پر عمل درآمد کار کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو جی ایس ٹی سبسڈی کو نوٹیفائی کرے گا، مقامی ٹریکٹر مینوفیکچرر ہر اگلے مہینے کے 5ویں دن ایف بی آر اور وزارت کو رپورٹ کریں گے۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ماہانہ بنیادوں پر فرانزک آڈٹ کے ذریعے کسانوں کے مفادات کے لئے سبسڈی کے مناسب استعمال کی تصدیق کو یقینی بنائے گی۔ مالی سال 2020-21  کے دوران سبسڈی کیلئے دائرہ اختیار میں پورا پاکستان شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here