ایک کروڑ 62 لاکھ امریکی بے روزگار، مزید 14 لاکھ کارکنوں کی بے روزگاری الائونس کیلئے درخواستیں

222

واشنگٹن: امریکہ کے لیبر ڈپارٹمنٹ  کے مطابق پچھلے ہفتے مزید 14 لاکھ کارکنوں نے اپنی ملازمتیں کھونے کے بعد بے روزگاری الائونس کے لیے درخواستیں جمع کرا دیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلائو کی وجہ سے کاروبار بند ہونے کے نتیجے میں ریکارڈ تعداد میں امریکی کارکن بے روزگار ہوئے تھے تاہم بعد ازاں رفتہ رفتہ پابندیاں نرم ہونے سے لاکھوں کارکن اپنے روزگار پر واپس چلے گئے۔

حالیہ ہفتوں میں کئی ریاستوں میں عالمی وباء کا زور دیکھا جا رہا ہے اور نئے مریضوں کی روزانہ اوسط 60 ہزار سے زیادہ رہی ہے اور متاثرین کی کل تعداد 40 لاکھ ہو چکی ہے۔ اس کا اثر روزگار پر بھی پڑ رہا ہے اور کارکنوں کو برطرف کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

عالمی وباء کے پھیلائو کے بعد کسی ایک ہفتے میں سب سے زیادہ بے روزگاری الائونس کے لیے درخواستیں مارچ میں داخل کی گئی تھیں جن کی تعداد 69 لاکھ کے قریب تھی، جب کہ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران اوسطاً 14 لاکھ درخواستیں دائر کی جاتی رہی ہیں جو تاریخی اعتبار سے بہت اونچی شرح ہے۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ لاکھوں کارکن اپنے روزگار پر واپس چلے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد ایک کروڑ 62 لاکھ کے قریب ہے۔

پچھلے چار مہینوں کے دوران ایسے مواقع بھی آ چکے ہیں کہ کسی ایک وقت میں 5 کروڑ 24 لاکھ کارکن حکومت سے بے روزگاری الاونس لیتے رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here