وزارتِ خوراک، سی سی پی گندم انڈسٹری میں دھوکہ دہی، کارٹیلائزیشن پر قابو پانے کے لیے سرگرم

100

اسلام آباد: وزارت برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ (این ایف ایس آر) نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے اشتراک سے گندم کی صنعت میں مارکیٹ کے دھوکہ دہی کے طریقہ کار اور کارٹیلائزیشن پر قابو پانے کے لیے ایک لائحہ عمل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک پریس ریلیز کے مطابق وزارتِ این ایف ایس آر کے سیکرٹری عمر حمید خان اور سی سی پی کی چئیرپرسن راحت کونین کی زیرصدارت ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کارٹیلائزیشن اور دھوکہ دہی کے طریقہ کار کے لائحہ عمل سے متعلق فیصلہ کیا گیا۔

وزارتِ خوراک نے کہا کہ وہ گندم کی صنعت میں مکروہ دھندے اور غلط طریقہ کار کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور اس سلسلے میں گندم کی طلب و رسد کے خلا کو ختم کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

اس سے قبل، 2 جولائی کو حکومتِ پنجاب نے اپنی عبوری گندم پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اجلاس میں شرکاء نے سندھ حکومت سے بغیر تاخیر کے اپنی گندم پالیسی لانے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

خیبر پختونخواہ کے سرکاری گوداموں میں پندرہ دن کے لیے بھی گندم نہ بچی

گندم کی درآمد میں تیزی اور مناسب نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے : ای سی سی

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ حکومت وسطی ایشیائی ممالک سے گندم درآمد کرنے کے لیے راہیں تلاش کررہی ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ صوبائی حکومتیں، پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان گندم کی درآمد کے لیے نجی شعبے کو ٹیندرز دینے کی پیشکش کریں۔

2020 میں نجی شعبے نے 6.6 ملین ٹن گندم کی خریداری کی۔ 16 جولائی 2020 کو مقامی سطح پر گندم کا ذخیرہ 6.7 ملین ٹن رہا جبکہ یہ ذخیرہ 16 جولائی 2019 میں 7.7 ملین ٹن ریکارڈ کیا گیا تھا۔

قبل ازیں، حکومت نے گندم کی قیمت فی 40 کلوگرام کے عوض 1400 روپے مقرر کی تھی۔

2019 میں سی سی پی نے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کی رکن فلور ملز کے خلاف گندم کی قیمتوں اور پیداوار کا تعین کرنے کی بنیاد پر 75 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here