حکومت کا جعلی لائسنسوں پر دستخط کرنے والوں کیخلاف بھی کارروائی کا عندیہ

یورپی یونین میں پی آئی اے پروازوں پر پابندی سنجیدہ معاملہ اپیل کرینگے، پائلٹوں کے معاملے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی سپریم کورٹ نے 2018ءمیں از خود نوٹس لیا تھا،وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا سینیٹ میں خطاب

236

اسلام آباد : وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے سیفٹی ادارہ کی طرف سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی ایک سنجیدہ معاملہ ہے، ہم اپیل میں جائیں گے، پائلٹوں کے معاملے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، سپریم کورٹ نے 2018ءمیں از خود نوٹس لیا تھا، جو بھی اس کام میں ملوث ہوا اس کے خلاف ایکشن ہو گا۔ جن لوگوں نے لائسنسوں پر دستخط کیے ان کے خلاف بھی کارروائی ہو گی اور ذمہ داروں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔

ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر جاوید عباسی اور سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی کے توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ 2009ءمیں بھی یورپ کے لئے ہماری پروازیں بند ہوئیں اور پی آئی اے کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو ماضی میں جس طرح چلایا گیا وہ سب کو معلوم ہے، آج لولی لنگڑی پی آئی اے 262 ارب روپے کی مقروض ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ کے لئے پروازوں کی معطلی ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اس پر عملدرآمد یکم جولائی سے شروع ہوا اور 30 اگست تک ہمارے پاس وقت ہے، وقت سے پہلے مشاورت ہو رہی ہے، ہم اپیل میں چلے جائیں گے لیکن اس سے پہلے بھی ویڈیو کانفرنس اور جرمنی میں اپنے سفیر کے ذریعے بات چیت کی گئی ہے، ساری صورتحال ان کے سامنے رکھی گئی، ہم اپنی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، یقیناً یہ پابندیاں ختم ہوں گی اور جلد یہ آپریشن شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پائلٹس کے معاملے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، یہ سلسلہ ہمارے دور کا نہیں ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ بھی 2018ءمیں سپریم کورٹ نے از خود نوٹس پر شروع کیا، ان کے پاس معلومات ہوں گی کہ پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر ہزاروں کے حساب سے تقرریاں ہوئیں۔

وزیر ہوابازی کا کہنا تھا کہ تصدیق کے دوران 17 پائلٹس اور 96 تکنیکی عملہ سمیت 658 لوگوں کو نوکریوں سے نکالا گیا، اپیل میں جانا ان کے پاس ایک قانونی راستہ تھا، تمام ریویو پٹیشن مسترد ہوئیں اور اس کے تسلسل میں 2018ءمیں یہ سلسلہ سپریم کورٹ کی مداخلت سے شروع ہوا اور سی اے اے نے اپنے طور پر پائلٹس لائسنسز پر بھی کام شروع کیا اور جب تصدیق کی گئی تو بہت سے پائلٹس کے لائسنسز مشکوک پائے گئے بلکہ انہیں شوکاز کیا گیا، چارج شیٹ دی گئی، ذاتی سماعت پر بلایا گیا۔

غلام سرور خان نے کہا کہ کچھ پائلٹس نے تسلیم کیا کہ غلطی ہوگئی، فروری 2019ءمیں ایک انویسٹی گیشن بورڈ گریڈ 20 کے افسر کی سربراہی میں بنایا، 260 پائلٹس کے آگے سوالیہ نشان ہے، ان کے لائسنس مشکوک ہیں، انہی میں سے 28 پائلٹس تمام پروسیڈنگز مکمل کرنے کے بعد جب یہ ثابت ہو گیا کہ وہ غلط طریقے سے لئے گئے فیڈرل گورنمنٹ اور وفاقی کابینہ سے ان کی منسوخی کی منظوری لی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں سی اے اے کی طرف سے جواب میں بھی تمام اعداد و شمار بتائے گئے۔ سپریم کورٹ نے ان اعداد وشمار کی توثیق بھی کی اور سخت ایکشن کے لئے کہا، دو ہفتے میں ایکشن لینے کے بعد دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اس میں لائسنسنگ اتھارٹی کے پانچ لوگوں کی معطلی ہوئی، بات یہاں تک نہیں رکے گی بلکہ منطقی انجام تک جائے گی، کس کس نے معاونت کی، کس کی سفارش اور کس کے سیاسی اثر و رسوخ پر ہوا یا لین دین پر ہوا، لینے اور دینے والا برابر کے مجرم ہیں، امتحان کس کی جگہ بیٹھ کر لیا گیا، جس نے کسی کی جگہ امتحان دیا اس کا لائسنس بھی کینسل ہو گا اور اس پر کریمنل کیسز بھی درج ہوں گے، آئی ٹی کے لوگ بھی ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ، انسانی جانوں کو محفوظ بنانا اولین ترجیح ہے، تحقیقاتی رپورٹ کی 54 سفارشات ہیں، ارکان پارلیمنٹ سے بھی رائے لیں گے۔

غلام سرور خان کا کہناتھا کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ہو گی بلکہ اس کی تنظیم نو کی جائے گی اور پی آئی اے کو پاﺅں پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن لوگوں نے لائسنسوں پر دستخط کئے ان کے خلاف بھی کارروائی ہو گی اور ذمہ داروں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی 174 پائلٹس کے لائسنسوں کی تصدیق کےلئے خط موصول ہوا، 166 کی تصدیق کر کے واپس بھجوا دیئے ہیں، 10 پائلٹس کے لائسنسوں کے آگے سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی ای او پی آئی اے کی تعیناتی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، سپریم کورٹ اس حوالے سے بہتر فیصلہ کرے گی، پچھلے دس سال میں پی آئی اے کے 11 چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئے اور یونین دباﺅ ڈال کر تقرریاں اور تعیناتیاں کرواتی رہی جس طرح پنجاب میں پٹواری ڈپٹی کمشنر اور کمشنر لگواتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک جہاز ماضی میں جرمنی چلا گیا اور ابھی بھی وہیں کھڑا ہے اس میں بھی کسی کی کوئی کوتاہی اور ذمہ داری تھی، قوم نے ہمیں احتساب کا مینڈیٹ دیا ہے، اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں، احتساب بلا امتیاز ہو گا، کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جا رہی، متحدہ عرب امارات سے 64 پائلٹس کے لائسنسوں کی تصدیق کے لیے خط موصول ہوا، 49 لائسنس ہم نے کلیئر کر دیے ہیں، اومان، ترکی، قطر، ملائیشیا، ویتنام سمیت مختلف ممالک سے اسی طرح کے خطوط موصول ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ این سی او سی کی سفارشات پر ملک کے اندر چار بڑے شہروں کے لیے محدود فضائی آپریشن کی اجازت ملی ہے، کورونا وائرس کی صورتحال میں بھی بہتری آ رہی ہے، عید کے بعد پروازیں بحال ہو جائیں گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here