ٹڈی دل کی نگرانی کے لیے پاکستان کو چینی سیٹلائٹس سے مدد ملنے لگی

چین کی فینگ ین سیریز کی سیٹلائٹس کی مدد سے پاکستان میں ٹڈی دل کی موجودگی، افزائش نسل اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی معلومات حاصل ہونے لگی، سیٹلائٹس زمین کی نمی، درجہ حرارت اور بارشوں کی تعداد کے حوالے سے معلومات بھیجتیں ہیں جنھیں ٹڈی دل کے حملے کے تجزیے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے

250

بیجنگ : چائنہ میٹرولوجیکل ایڈمنسٹریشن ( سی ایم اے ) نے پاکستان میں فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے بارے ایک رپورٹ جاری کی ہے جسے تباہی مچانے والی ٹڈیوں کی نشاندہی اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے پیشگی خبردار کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق چین کی فینگ ین سیریز کی سیٹلائٹس بارشوں کی تعداد، زمین میں نمی اور درجہ حرارت کی بنا پر ایسی معلومات فراہم کرسکتا ہے جسے ٹڈی دل کے حوالے سے تجزیے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

چینی ادارے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شدید گرم اور نمی سے بھرپور موسم ٹڈی دل کی افزائش نسل کے لیے نہایت موزوں ہوتا ہے اور ہوا کی رفتار اور رُخ کی بنا پر اسکی ہجرت کے حوالے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ فینگ ین سیٹلائٹس پاکستان میں ٹڈی دل کی وجہ سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی معلومات اکٹھی کرنے میں بھی نہایت مددگار ثابت ہوئیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

ٹڈی دل کی یلغار: پاکستان کا کسان برباد، زرعی شعبے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے

چین نے دنیا کی سب سے سستی برقی کار تیار کر لی، قیمت صرف 930 ڈالر

اقوام  متحدہ کے  ادارہ برائے خوراک نے خبر دی ہے کہ پاکستان میں گرمیوں میں ٹڈی دل کی افزائش نسل کا سلسلہ تھر پارکر، نارا اور صحرائے چولستان میں شروع ہوچکا ہے جس میں اس ماہ کے آخر تک تیزی آجائے گی۔

ٹڈی دل نے افریقہ، عرب خطے اور جنوبی ایشیا میں فصلوں اور چراہ گاہوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور چینی سیٹلائٹ فینگ ین تھری سے صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔

فینگ ین تھری کے تھری کے ڈیٹا سے پاکستانی حکام اور سائنسدان بھی ٹڈی دل سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کے بارے میں آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔

مزید برآں پاکستانی حکام چینی سیٹلائٹس کے ڈیٹا کی مدد سے متعلقہ حکام کو موسم کی صورتحال سے بھی آگاہ کررہے ہیں۔

اس وقت کل 180 ممالک چین کی فینگ ین سیریز سیٹلائٹس کا ڈیٹا استعمال کر رہی ہیں جبکہ 130 ممالک نے ان سیٹلائٹس سے ڈیٹا حاصل کرنے اور بھجوانے کے لیے زمین پر سٹیشنز بھی قائم کرلیے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here