قومی مالیاتی کمیشن سے حفیظ شیخ کی چھٹی، پُرانے ٹی او آرز بحال کردیے گئے

حکومت نے دسویں این ایف سی میں کی گئی تبدیلیوں سے پسپائی اختیار کرلی، مشیر خزانہ کو ہٹانے اور کمیشن کے پرانے ٹی او آرز کی بحالی کا اقدام صوبوں کی جانب سے شدید ردعمل اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اُٹھایا گیا

225

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے دسویں قومی مالیاتی کمیشن سے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو نکالتے ہوئے کمشین کی تشکیل سے متعلق نیا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

حکومت نے یہ اقدام صوبوں کی جانب سے رد عمل اور بلوچستان ہائی کورٹ سے دسویں این ایف سی ایوارڈ کے خلاف فیصلہ آنے پر اُٹھایا ہے۔

مشیر خزانہ کو نیشنل فنانس کمیشن سے ہٹانے کے علاوہ حکومت نے کمیشن کے پرانے ٹی او آرز بھی بحال کردیے ہیں۔ نئے ٹرمز آف ریفرنسز کے ذریعےاین ایف سی میں وسائل کی تقسیم کے حوالے سے آئینی ترمیم کے بغیر ہی مرکز کا حصہ بڑھا دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

طورخم بارڈر سے تجارت : ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو بھاری نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف

تنقید سامنے آنے پر جاوید جبار 10ویں این ایف سی ایوارڈ سے مستعفی

اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے دسویں این ایف سی ایوراڈ کی تشکیل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

مزید برآں 24 جون کو بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل سے متعلق صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے جاری کیا جانے والا نوٹی فکیشن کلعدم قرار دے دیا تھا۔

عدالت نے کمیشن کی تشکیل کو آئین کے منافی قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت نے بجلی کے بلوں میں پی ٹی وی فیس میں اضافہ مؤخر کردیا

حکومت نے دسویں این ایف سی ایوارڈ میں کچھ نئے ٹرمز آف ریفرنس شامل کیے تھے جن کے تحت سیکیورٹی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی مد میں مرکز کا حصہ بڑھایا گیا تھا۔

مزید برآں قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھی مجموعی قومی آمدنی میں سے وسائل مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

 اس اقدام کو صوبوں کی جانب سے شدید مخالفت کو سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے حکومت نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ان ٹی آر اوز کو ختم کردیا ہے۔

دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی نئی تشکیل کے حوالے سے فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹی فکیشن کے مطابق کمیشن کی صدارت وزیر خزانہ کے پاس ہوگی جبکہ چاروں صوبائی وزیر خزانہ اس کے ممبران ہونگے۔

اس کے علاوہ  پنجاب سے طارق باجوہ، سندھ سے ڈاکٹر اسد سعید،  کے پی سے مشرف رسول سیان اور بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹر قیصر بنگالی بھی کمیشن کا حصہ ہونگے۔

این ایف سی کے موجودہ انتظام کے تحت کل ملکی آمدن میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد جبکہ مرکز کا 42.5 فیصد ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 160 کے مطابق مملکت کے صدر کے لیے ہر پانچ سال بعد این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل لازمی ہے۔

آٹھواں اور نواں این ایف سی بے نتیجہ رہنے کی وجہ سے وسائل کی تقسیم ساتویں قومی مالیاتی کمیشن میں طے کردہ طریقہ کار کے مطابق کی جاتی ہے اور دسویں این ایف سی میں بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here