طورخم بارڈر سے تجارت : ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو بھاری نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف

چئیرمین ایف بی آر کے مطابق افغانستان سے 113 گاڑیاں ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر پاکستان میں داخل ہوئیں، فراڈ کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرادیے گئے، سینیٹ کمیٹی نے معاملے پر رپورٹ جلد فراہم کرنے کا حکم دے دیا

250
epa02416396 Trucks carrying Afghan transit trade supply are waiting for custom clearance at Pak-Afghan border in Chaman, Pakistan, 28 October 2010. Pakistan and Afghanistan sign the Afghanistan Pakistan Transit Trade Agreement (APTTA) in Kabul on October 28. EPA/MATIULLAH ACHAKZAI

اسلام آباد : طورخم بارڈر سے پاکستان میں داخل ہونے والی کم از کم 113 ایسی گاڑیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جنھوں نے ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگی نہیں کی۔

یہ انکشاف ایف بی آر چیئرمین کی جانب سے سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس، ریونیو اور معاشی امور کے سامنے کیا گیا جس کی صدارت ایم این اے فیض اللہ کر رہے تھے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہ جاوید غنی نے کمیٹی کو بتایا کہ 18 مئی 2020 کو ایک جےآئی ٹی نے طورخم بارڈر پر پیش آنے والے اس فراڈ کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ افغانستان سے 113 گاڑیاں بنا ٹیکس اور ڈیوٹی کے پاکستان میں داخل ہوئیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان میں پائلٹوں کو جعلی لائسنس کا اجرا عام بات ہے : ہوابازوں کا انکشاف

گوادر بندرگاہ کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت

انہوں نے مزید بتایا کہ فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کے لیے مقدمات درج کرادیے گئے ہیں۔

معاملے پر طویل بحث کے بعد سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر چیئرمین کو تنبیہ کی کہ اس حوالے سے رپورٹ کی تیاری میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

جس پر ایف بی آر چیئرمین نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ معاملےکی رپورٹ ایک مہینے میں پیش کردی جائے گی۔

کمیٹی نے طورخم بارڈر پر انتظامی نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے  فراڈ میں ملوث افسران اور انکے خلاف کاروائی کی تفصیل پیش کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here