اوگرا نے سالانہ کارکردگی رپورٹ برائے 2018-19 جاری کردی

2018-19 میں اوگرا نے اوور بلنگ، معیار اور ناپ تول میں کمی پر 64.57 ملین کے جرمانے کیے، چھ نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو کام کی اجازت دینے کے علاوہ متعدد کمپنیوں کو تیل کی نئی ذخیرہ گاہوں کی تعمیرکے لائسنس بھی جاری کیے گئے۔

70

اسلام آباد : آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)  کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ برائے 2018-19  جاری کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 2018-19 میں اوگرا نے447 فیول آؤٹ لیٹس کا دورہ کیا اور اوور چارجنگ، معیار اور ناپ تول میں کمی پر 182 شو کاز نوٹسز جاری کرنے کے علاوہ اس ضمن میں 64.57 ملین کے جرمانے کیے۔

مزید برآں کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبے کے تحت 663 عوامی شکایات پر بھی کاروائی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے:

سربراہ کی مدت ملازمت ختم، اوگرا عملی طور پر غیر فعال ہوگیا

قیمتیں بڑھانے کی مانگ پر نرخوں میں کمی، اوگرا کا گیس کمپنیوں اور صارفین کو سرپرائز

ملک میں معیاری مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی نے پاکستان ہائیڈرو کاربن ڈیویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی مدد سے توانائی کی درآمد شدہ مصنوعات کے 460 اور نان انرجی پراڈکٹس کے 725 کوالٹی ٹیسٹ کیے۔

اسی طرح آئل ڈپوؤں اور لیوب بلینڈنگ پلانٹس میں بھی  بلترتیب1 ہزار  508 اور 368 کوالٹی چیکس کیے گئے۔

مزید برآں آئل ریفائنریوں میں 267 اور آئل پائپ لائنز ٹرمینل سٹیشنزمیں 53 کوالٹی چیکس کیے گئے ۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان میں دریافت ہونے والے گیس کے دو نئے کنوؤں سے کمرشل پیداوار شروع ہوگئی

اس کے علاوہ سال 2018-19 میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام سے پہلے تیل کی ذخیرہ گاہوں کی تعمیر کے لیے نو لائسنس جاری کیے گئے جس سے تیل کے شعبے کے تعمیراتی سیکٹر میں اگلے تین سالوں میں ساڑے چار ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔

اس کے علاوہ چھ نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو کام کے آغاز کے لیے لائسنس جاری کیے گئے۔

مزید برآں اوگرا نے ہاسکول پٹرولیم لمیٹڈ کو کوٹلا جام اور شکارپور میں جبکہ بی ای انرجی لمیٹڈ کو ماش خیل، فلو پٹرولیم کو اٹک، لوگارڈیا کو دولت پور، یورو آئل کو ساہیوال، تاج گیسولین کو شکارپور اور ہائی ٹیک لبریکینٹس کو ساہیوال میں تیل کی ذخیرہ گاہیں بنانے کی اجازت بھی دی۔

اس کے علاوہ اٹک پٹرولیم کو ساہیوال اور ماش خیل، ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ کو شکارپور اور ماش خیل ، گیس اینڈ آئل پاکستان کو رحیم یار خان اور حب پٹرولیم کو حب میں تیل کی ذخیرہ گاہیں بنانے کی اجازت دی گئی۔

مزید برآں اوگرا نے خیبر آئل کے قیام کے لیے بھی لائسنس کا اجرا کیا جس کی پیداواری صلاحیت بیس ہزار بیرل یومیہ ہوگی اور یہ پچاس کروڑ ڈالر کی لاگت سے پانچ سال میں قائم کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ایک سال کے عرصے میں اوگرا نے لیوب آئل بلینٖڈنگ پلانٹس کے قیام اور آپریشنز کے لیے گیارہ جبکہ لبریکنٹ ماریٹنگ کمپنیوں کو لیوب آئل کی درآمد کے لیے بھی گیارہ لائسنس جاری کیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here