شاہ محمود قریشی وزیراعظم کے دہری شہریت والے مشیروں اور معاونین کی حمایت میں سامنے آگئے

آئین میں واضح طور پردرج ہے کہ دہری شہریت رکھنے والا ممبر پارلیمنٹ نہیں بن سکتا تاہم انہیں حکومت میں کوئی اور عہدہ دینے کے حوالے سے کوئی ممانعت نہیں، تکنیکی ماہرین ہر حکومت کی ضرورت ہوتے ہیں : وزیر خارجہ

83

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہر حکومت کو تکنیکی مہارت کے لیے منتخب عہدیداران کے ساتھ ٹیکنوکریٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگومیں انہوں نے مزید کہا کہ اس چیز کو تسلیم کرنا چاہیے کہ کابینہ ممبران کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کرنا ایک غٰیر معمولی کام ہے جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا ماضی کی حکومتوں نے یہ کام کبھی نہیں کیا مگر عمران خان ایسا کرنے کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں اور یہ اقدام احتساب اور شفافیت میں مددگار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے :

این آئی آر سی چئیرمین کی مدت ملازمت میں دوسری توسیع، معاملہ کابینہ کے سپرد

کورونا ویکسین دنیا میں بلا معاوضہ دستیاب ہونی چاہیے، عمران خان سمیت 140 عالمی رہنماؤں کا مطالبہ

ایک کھرب روپے کی مبینہ کرپشن کا الزام، ایف بی آر اور خزانہ ڈویژن سے جواب طلب

انکا کہنا تھا کہ آئین میں واضح طور پردرج ہے کہ دہری شہریت رکھنے والا ممبر پارلیمنٹ نہیں بن سکتا تاہم انہیں حکومت میں کوئی اور عہدہ دینے کے حوالے سے کوئی ممانعت نہیں ہے۔

مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انکی جماعت کا مؤقف بلکل واضح ہے اور ہر ایک پر لازم ٹھرا دیا گیا کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے یہ تاثر ملے کہ اس کے لیے سرکاری عہدے کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا منتخب اور غیر منتخب کابینہ ممبران کے لیے دہری شہرت سے متعلق ایک قانون ہونا چاہیے ؟ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ہی طرح کے ارکان کابینہ میں صحت مند توازن برقرار رکھنے لیے ضروری ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ منتخب افراد کی اپنی اہمیت ہے وہ عوام کے نمائندے ہوتے ہیں مگر ہر حکومت کو تکنیکی مہارت کے لیے متعلقہ شعبے کے ماہرین کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور آئین وزیراعظم کو چار مشراء رکھنے کی اجازت دیتا ہے جو کہ کسی شعبے سے متعلق مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتیں بھی آئین کی جانب سے دی گئی اس سہولت کا استعمال کرتی رہیں ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا وزیراعظم دہری شہریت رکھنے والے کابینہ ارکان کو غیر ملکی شہریت ترک کرنے کا کہیں گے ؟ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اس پر بات ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here