این آئی آر سی چئیرمین کی مدت ملازمت میں دوسری توسیع، معاملہ کابینہ کے سپرد

جسٹس ریٹارڈ شاکر اللہ جان کا بطور سربراہ این آئی آرسی دوسرا کنٹریکٹ سمتبر میں ختم ہورہا ہے، وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری ملنے پر وہ مسلسل تیسری مرتبہ اس عہدے پر تعینات ہوجائیں گے، چیف جسٹس آف پاکستان نے ایکسٹینشن کی منظوری دے دی

102

اسلام آباد : نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن ( این آئی آر سی ) کے چئیرمین جسٹس ریٹائرڈ میاں شاکر اللہ جان کی مدت ملازمت کے کنٹریکٹ میں دو سال کے اضافے کا امکان۔

تاہم اس اضافے کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔

اس وقت جسٹس ریٹائرڈ میاں شاکر اللہ جان این آئی آر سی کے سربراہ کی حیثیت سے دوسری مرتبہ خدمات فراہم کر رہے ہیں اور انکا کنٹرکیٹ ستمبر کے مہینے میں ختم ہوجائے گا۔

اگر وفاقی کابینہ انکی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کردیتی ہے تو وہ مسلسل تیسری مرتبہ ادارے کے سربراہ مقرر ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

حکومت کا سٹیل مل کی نجکاری کے بجائے نجی شعبے کی مدد سے چلانے کا فیصلہ

قیمتیں بڑھانے کی مانگ پر نرخوں میں کمی، اوگرا کا گیس کمپنیوں اور صارفین کو سرپرائز

پرافٹ اردو کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے این آئی آر سی کے چئیرمین کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی ہے۔

ان دستاویزات کے مطابق سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری نور زمان کو اس حوالے سے خط بھی لکھ چکے ہیں۔

تاہم نور زمان اپنے عہدے سے دو سال قبل ریٹائر ہوچکے ہیں اور اس وقت نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن میں بطور ممبر کام کررہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارہ ( ایف آئی اے ) کرپشن الزامات پر نور زمان کے خلاف تحقیقات بھی کررہا ہے۔

ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ این آئی آر سی کے موجودہ چیئرمین کی عمر 73 سال ہے ایسے میں مدت ملازمت میں توسیع کے ذریعے انکی مسلسل تیسری مرتبہ اس عہدے پر تعیناتی پر سوالیہ نشان کی زد میں ہے۔

قوانین کے مطابق این آئی آر سی چیئرمین کی تقرری وفاقی حکومت چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے کرتی ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے مطابق سپریم کورٹ کے جج کے علاوہ کوئی بھی شخص اس عہدے پر تعینات نہیں کیا جاسکتا۔

وزارت کے ترجمان کے مطابق حتمی منظوری کے لیے معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوانے کے لیے سمری وزیراعظم کو بھجوا دی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here