آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کا معاملہ ، وفاقی کابینہ اور حکومتی معاشی ٹیم میں اختلافات پیدا ہوگئے

انٹرنیشن مانٹیرنگ فنڈ ای ایف ایف پروگرام کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، سٹیٹ بنک کی خود مختاری اور نیپرا ایکٹ میں ترمیم چاہتا ہے، مشیر خزانہ شرائط کے حامی ، کچھ کابینہ ارکان مخالف۔

105

اسلام آباد : حکومت کی معاشی ٹیم کابینہ کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے کیے گئے اصلاحاتی ایجنڈے پر قائل کرنے میں ناکام ہوگئی۔

یہ اصلاحاتی ایجنڈا آئی ایم ایف سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی ( ای ایف ایف ) کے حصول کے وقت طے کیے گیا تھا۔

ذرائع نے پرافٹ اردو کو معاملے کے حوالے سے بتایا کہ اصلاحات کے نام پر انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ کی شرائط میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، سٹیٹ بنک کی خود مختاری اور نیپرا ایکٹ میں ترمیم جیسے معاملات شامل ہیں اور مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ ان شرائط پر عمل درآمد کے حق میں ہیں مگر کابینہ کے کچھ ارکان کو ان کے حوالے سے تحفظات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

آئی ایم ایف نے رواں اور آئندہ برس کیلئے پاکستان کی شرح نمو کے تخمینہ میں کمی کر دی

کیا دیامر بھاشا ڈیم کی وجہ سے پانچ ہزار سال پرانے تاریخی ورثہ کو نقصان پہنچ رہا ہے؟

’آئی ایم ایف، مغرب کو خوش کرنے کیلئے سی پیک سرد خانے ڈال دیا گیا‘

ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان سے ریونیو میں اضاٖفے کے پلان کے حوالے سے بھی وضاحت چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کی منظوری کے بعد مالی سال 2021 کے لیے ریونیو ہدف 4 ہزار  963 ارب روپے رکھا ہے۔

مزید برآں ای ایف ایف پروگرام کے تحت اصلاحاتی ایجنڈے کا جائزہ لینے کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیم ستمبر میں پاکستان آئے گی اور  اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے پر اس پروگرام کو ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع نے دعوی کیا کہ اگر آئی ایم ایف کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی ( ای ایف ایف ) کو ختم کردیا گیا تو مشیر خزانہ سے استعفی لیا جاسکتا ہے ۔

تاہم وزارت داخلہ نے اس چیز کی تردید کی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here