پٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافہ، وزیراعظم نے لیوی میں کمی کی تجویز رد کردی

گزشتہ ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پہلے وزیراعظم کوعوام کو ریلیف دینے کے لیے لیوی کم کرنے کی تجویز دی گئی تھی مگرانھوں نے اسے رد کرتے ہوئے قیمتوں کے فوری اطلاق کا حکم دے دیا : ذرائع

256

اسلام آباد : 25 جون کو پڑول کی قیمت میں  25.58 روپے اضافہ کیے جانے پر عوام کی جانب سے شدید رد عمل آیا تھا اور اپوزیشن نے بھی حکومت کے خوب لتےلیے تھے مگر حکومت نے اپنا فیصلہ نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اس کے دفاع میں یہ بھی کہا کہ یہ اضافہ ناگزیر ہونے کے باوجود جتنا کیا جانا چاہیے تھا اتنا کیا نہیں گیا۔

مگر اب پرافٹ اردو کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اس ہوشربا اضافے کے فیصلے سے پہلے وزیراعظم عمران خان کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی تجویز دی گئی تھی جسے انھوں نے رد کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

لاہور ہائی کورٹ کا حکومت کو پٹرولیم بحران کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا حکم

ذرائع کا بتانا تھا کہ پی ایس او نے ماہ جولائی کے لیے موٹر سپرٹ کی قیمت 31.58  روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کے نرخ 24.31 روپے بڑھانے کی تجویز دی تھی مگر فنانس ڈویژن نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے وزیراعظم کو موٹر سپرٹ پر لیوی میں 6 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر لیوی میں تین روپے کمی کی تجویز دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

پٹرول بحران ، اوگرا کی جانب سے مزید تین آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر جرمانے عائد

اس کے علاوہ پٹرولیم ڈویژن نے وزیراعظم کو تجویز دی تھی کہ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق نئے مہینے کے آغازکے بجائے 26 جون کو ہی کردیا جائے جو کہ روایت کے خلاف بات تھی۔

مگر وزیراعظم نے لیوی میں کمی کی تجویز کو رد کرتے ہوئے نئی قیمتوں کے فوری اطلاق کی منظوری دے دی۔

ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ پڑولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے  26  جون سے اطلاق سے حکومت کو 26 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here