گورنر سٹیٹ بنک کا ایس ایم ای سیکٹر کے لیے ری فنانس سکیم میں دستاویزات کم کرنےکا عندیہ

معاملے پر کام کے لیے کمیٹی قائم کرکے جلد تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کردی ، کورونا کے کاروبار پر اثرات کےجائزے کے لیے بھی کمیٹی قائم کی جائے گی، متاثرہ تاجروں سے خود ملاقات کرونگا : ڈاکٹر رضا باقر

108

فیصل آباد : گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر کا کہنا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں  ( ایس ایم ای سیکٹر) کے لیے دستاویزات کو کم سے کم کیے جانے کی ضرورت ہے۔

یہ بات انہوں نے فیصل آباد کے ایوان صنعت و تجارت کے صدر رانا محمد سکندر اعظم کے  ساتھ آن لائن ملاقات میں کہی۔

تفصیلات  کے مطابق گورنر سٹیٹ بنک نے اس حوالے سے مرکزی بنک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر عنایت حسین کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔

ڈاکٹر رضا باقر کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی سٹیٹ بنک کی ری فنانس سکیم کا جائزہ لے کر نشاندہی کرے گی کہ کن کاغذات کو اس سکیم سے نکالا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو فوری کام شروع کرنے اور قابل عمل تجاویز جلد پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

اسٹیٹ بنک نے ترسیلات زر کی مارکیٹنگ اسکیم میں تبدیلی کردی

ایک ہفتے میں سٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 7.2 فیصد کا اضافہ

رانا محمد سکندر اعظم کے ساتھ بات چیت میں گورنر سٹیٹ بنک کا بنکوں کے اوقات کار کے حوالے سے کہنا تھا کہ تمام کمرشل بنک پیر سے جمعے تک صبح 9 بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک کھلے رہیں گے اور اس حوالے سے سرکولر جاری کردیا گیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف بنکوں پر بوجھ کم ہوگا بلکہ صارفین کو بھی سہولت ملے گی۔

مزید برآ ں گورنر اسٹیٹ بنک نے فیصل آباد کے چیف مینیجر کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا جس کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں شہر کے ایوان صنعت و تجارت کے صدر سمیت مقامی تاجر تنظیموں کے منتخب عہدیداران بھی شامل ہونگے اور اس کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ ہوگا جس میں مقامی سطح کے مسائل کا حل نکالا جائے گا۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر رضا باقر نے کورونا کے کاروباروں پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بھی ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔

انکا کہنا تھا کہ وبا سے متاثرہ کاروباروں کے مالکان کےساتھ وہ ایک علیحدہ ملاقات کریں گے۔

اُدھر ٖفیصل آباد کے ایوان صنعت و تجارت کے صدر نے تاجروں کے مسائل براہ راست سننے اور ضرورت مند کاروباروں تک ری فنانس سکیم کے اثرات پہنچانے کی کوششوں پر گورنر سٹیٹ بنک کا شکریہ ادا کیا۔

انکا کہنا تھا کہ بنکوں کو کورونا سے متاثرہ کاروباروں کے قرضوں کو سٹیٹ بنک کی سکیم کے تحت ری شیڈول کرنا چاہیے۔

مزید برآں انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ نان فائلرز کے بجائے فائلرز کو سہولیات دی جائیں کیونکہ ایسا کرنے سے ہی معیشت کو دستاویزی بنایا جاسکے گا۔

اس کے علاوہ انہوں نے شرح سود سات فیصد کرنے پر گورنر سٹیٹ بنک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بنکوں کی جانب سے  ڈیپازٹ کنندہ اور قرض داروں کے درمیان شرح سود کے فرق کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here