ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، 15 بنکوں پر جرمانے عائد

بنکوں پر یہ جرمانے مرکزی بنک کی جانب سے اسکے وضع کردہ مختلف قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کیے گئے، ایف ٹی اے ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کے بعد بنکوں کی نگرانی کا عمل سخت کردیا گیا ہے

519

کراچی :  مارچ سے جون تک کے عرصے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر سٹیٹ بنک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 15 بنکوں پر جرمانے عائد کر دیے۔

ان بنکوں میں یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ (یو بی ایل)، جے ایس بنک، میزان بنک، فیصل بنک، بنک آف پنجاب (بی او پی)، حبیب بنک لمیٹڈ (ایچ بی ایل)، مسلم کمرشل بنک (ایم سی بی)، نیشنل بنک آف پاکستان (این بی پی)، بنک الحبیب، حبیب میٹرو پولیٹن بنک، بنک الفلاح، عسکری بنک، بنک الاسلامی ، زرعی ترقیاتی بنک اور پنجاب پراونشل کوآپریٹیو بنک شامل ہیں۔

ان میں سے 12 بنکوں کو (Know Your Customer) اور (Customer Due Diligence)  کے ضابطوں کی خلاف ورزی پر جرمانے کی سزا کی دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے:

ایک ہفتے میں سٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 7.2 فیصد کا اضافہ

پاکستان نے چینی بنکوں سے 1.3 ارب ڈالر کا قرض حاصل کرلیا

کورونا وائرس: حبیب بنک ملازمین اور انکے اہلخانہ کے علاج معالجے کے اخراجات اُٹھائے گا

سب سے زیادہ جرمانہ بنک آف پنجاب کو 28 کروڑ 63 لاکھ روپے کا ہوا۔ مرکزی بنک کے مطابق بنک آف پنجاب کو بارہا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی۔

دوسرا نمبر نیشنل بنک کا ہے جسے 26 کروڑ 98 لاکھ روپے کا جرمانہ کیا گیا۔ حبیب بنک کو 20 کروڑ 42 لاکھ، مسلم کمرشل بنک کو 15 کروڑ 84 لاکھ ، یونائیٹڈ بنک کو 13 کروڑ 70 لاکھ، جے ایس بنک کو سات کروڑ 14 لاکھ ، فیصل بنک کو نو کروڑ 61 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے ۔

اسی طرح حبیب میٹرو پولیٹن بنک کو دو کروڑ 28لاکھ، بنک الفلاح کو چار کروڑ تین لاکھ، عسکری بنک کو دو کروڑ 98 لاکھ، میزان بنک آٹھ کروڑ 11 لاکھ، بنک الاسلامی کو ایک کروڑ 15  لاکھ کا جرمانہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ پنجاب پراونشل کوآپریٹو بنک کو آٹھ کروڑ 15 لاکھ، زرعی ترقیاتی بنک کو 14 کروڑ 72 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ دونوں بنکوں کو اینٹی منی لانڈرنگ اور فنانسنگ آف ٹیرارزم قوانین کی خلاف ورزیوں پر یہ سزا دی گئی۔

واضح رہے کہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے گرے لسٹ میں ڈالنے کے بعد مرکزی بنک نے بنکوں کی جانب سے مختلف معاملات پر وضع کردہ قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے نگرانی بڑھا دی ہے اور ستمبر 2019ء کے بعد اس نے بینکوں کو کیے جانے والے جرمانوں کی معلومات بھی جاری کرنا شروع کر دی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here