ٹڈی دل کی یلغار: پاکستان کا کسان برباد، زرعی شعبے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے

فصلوں کی دشمن ٹڈیوں کی افزائش نسل میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا، حالات بگڑے تو ربی اور خریف کی فصلوں کو 15 ارب روپے کا نقصان ہوگا، ورلڈ بنک کی مالی مدد سے مسئلے پر قابو پانے کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار

392
(200216) -- OKARA, Feb. 16, 2020 (Xinhua) -- Photo taken with mobile phone on Feb. 15, 2020 shows Pakistani farmers trying to avoid locusts swarming in Okara district in eastern Pakistan's Punjab province. Locust attack on crops incurred heavy financial losses to farmers in some areas of the country. (Str/Xinhua) (Xinhua/Stringer via Getty Images)

اسلام آباد : ورلڈ بنک ٹڈی دل کے حملے کی زد میں آئے ہوئے پاکستان کی مدد لیے 20 کروڑ ڈالر جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

وزارت خوراک میں ہمارے ذرائع کے مطابق عالمی بنک کی جانب سے اس امداد کی منظوری ٹڈی دل پر قابو پانے، متاثرہ علاقوں میں حالات معمول پرلانے اور خوراک کی دستیابی کے حوالے سے ملک کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے دی جائیگی۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹڈی دل کا انوکھا حل : حکومت نے عوام کی مدد سے ٹڈیاں پکڑ کر کھاد بنانے کا منصوبہ بنالیا

ٹڈی دل کا حملہ نیا مگر گندم کا بحران تو نیا نہیں!

وزار ت کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ ٹڈی دل پر قابو پانے کے پروگرام کے لیے مالی وسائل کے حصول کے لیے ورلڈ بنک سے رجوع کیا گیا تھا۔

انکا مزید بتانا تھا کہ عالمی بنک کی جانب سے دیے جانے والے 20 کروڑ ڈالر میں سے بارہ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن ( آئی ڈی اے ) دے گی۔

ٹڈی دل پر قابو پانے کے منصوبے کے لیے ہنگامی مالی وسائل حاصل کرنے کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش خطرات اور ٹڈی دل کی تیزی سے ہوتی افزائش نسل سے نمٹنا ہے۔

ان دنوں پاکستان کو مہلک کورونا وبا کے ساتھ ٹڈی دل کے عفریت کا بھی سامنا ہے جس پر قابو پانے کے لیے عالمی بنک کا ذیلی ادارہ آئی ڈی اے سامنے آیا ہے جس کی مدد سے متاثرہ علاقوں میں ٹڈی دل سے نمٹنے کا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

ملک کا 38 فیصٖد علاقہ فصلوں کی دشمن ان ٹڈیوں کی افزائش نسل کے لیے انتہائی مفید جبکہ باقی علاقہ ان کے حملے کے خطرے سے دوچار ہے۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال بہت زیادہ بگڑتی ہے تو ربی اور خریف کی فصلوں کا مجموعی نقصان 15 ارب روپے ہوسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here