آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 5.1 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

یہ بے ضابگیاں ریکارڈ کی تیاری، ملازمین اور انسانی وسائل اور پیپرا رولز کے حوالے سے معاملات میں پائی جاتی ہیں، آڈیٹر جنرل نے خرد برد کی گئی رقم کی فوری بازیابی کی ہدایت کردی

268

اسلام آباد : آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 5.1 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس رقم کی بازیابی کی ہدایت کی ہے۔

آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزارت میں ریکارڈ کی تیاری، پیپرا رولزاور انسانی وسائل کے معاملات میں شدید بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں۔

رپورٹ میں 5.1 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کے 22 کیسوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایک کھرب روپے کی مبینہ کرپشن کا الزام، ایف بی آر اور خزانہ ڈویژن سے جواب طلب

کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے ذمہ دار ہم نہیں وفاقی حکومت ہے، کے الیکٹرک کا نیپرا کو جواب

ریکارڈ کی تیاری کے حوالے سے دو کیسوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں بے ضابطگیوں کا مالی حجم 96 لاکھ سے زائد ہے۔

ملازمین اور انسانی وسائل سے متعلق بے ضابطگیوں کا حجم 23 کروڑ نوے لاکھ روپے جبکہ پیپرا رولز کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے 23 کیسوں میں بے ضابطگیوں کا مالی حجم 3 ارب پچاس کروڑ روپے ہے۔

اسی طرٖح رپورٹ میں خدمات کے حوالے سے تین کیسوں میں 31 کروڑ ساٹھ لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here