پاکستان ایف اے ٹی ایف کے 14 نکات پر عملدرآمد کر چکا، 13 پر پیشرفت جاری: مشیر خزانہ

عالمی معیار کے حصول کیلئے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کی، فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کو بھی انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کیساتھ مربوط کیا، قانونی ذرائع سے ترسیلات زرکی حوصلہ افزائی کیلئے ریمیٹنسز انیشیٹو پروگرام شروع کیا: اقوام متحدہ کے پینل سے خطاب

320

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ و محصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کے ذمہ دار رکن ہونے کے ناطے پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کیلئے مالی معاونت کی روک تھام کے اقدامات کے ذریعہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان کو مکمل کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بات انہوں نے پائیدارترقی کے ایجنڈا کے تحت بین الاقوامی مالیاتی احتساب، شفافیت اور انٹی گریٹی سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے پینل سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہی۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ فیٹف کے 24 نکات میں پاکستان نے پہلے سے 14 پرعملی اقدامات کئے ہیں اور باقی 13 نکات پر پیش رفت جاری ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے باہمی تجزیاتی رپورٹ میں مجوزہ اقدامات پر بھی پیش رفت کی ہے جن میں 15 قانونی ترامیم شامل ہیں تا کہ تکنیکی عمل درآمد کو ممکن بنایا جا سکے۔

ان میں منی لانڈرنگ و ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے ضمن میں نیشنل رسک اسیسمنٹ کی اَپ گریڈیشن، سی ڈی این ایس، پاکستان پوسٹ، اور پابندیوں کے دائرہ کار میں توسیع شامل ہیں، بین الاقوامی معیار کے حصول کیلئے پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کی تاکہ ٹیکس سے متعلق غیر قانونی اقدامات کو جرم قرار دیا جائے۔

اسی طرح انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول میں بدعنوانی، نارکوٹکس، دہشت گردی اور انسانی سمگلنگ کو شامل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی دفعہ (4) (1) اور 5 کی خلاف ورزیوں کو بھی انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے تاکہ اے ایم ایل ایکٹ کے تحت ان کو قابل سزا جرائم قراردیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کے تحفظ کے ایکٹ (پیرا) کے تحت نان فائلرز پاکستانیوں کیلئے فارن کرنسی اکائونٹ کو محدود کردیا گیا ہے، اسی طرح قانونی ذرائع سے ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کیلئے پاکستان ریمیٹنسز انیشیٹو پروگرام شروع کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک عشرہ میں پاکستان میں ترسیلات زرکا حجم جو مالی سال 2008 ء میں 6.4 ارب ڈالر تھا اب سال 2020ء میں 23 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح کسٹم میں آٹومیشن کے ذریعہ جدت لائی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here