نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کیلئے 30 ارب روپے سبسڈی مختص

پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر پر فی گھر تین لاکھ روپے سبسڈی، پانچ مرلہ مکان کے لئے پانچ فیصد، 10 مرلہ مکان کے لئے 7 فیصد مارک اپ، گھر کی خریداری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے

178

اسلام آباد:  وزیراعظم عمران خان نے ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ کی ترقی کے لئے مراعات و سہولیات کا اعلان کرتے ہوئے نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی مختص کردی ہے۔

ہاﺅسنگ، تعمیرات و ترقی کے متعلق قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کے پہلے اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں ہاﺅسنگ و تعمیرات کے شعبہ ترقی کی راہ میں رکاوٹیں اور مشکلات حائل تھیں جنہیں دور کرنے کے لئے قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے مختلف جہتوں میں کام کیا جا رہا ہے، گھروں کے لئے قرضوں کی سہولت سے متعلق قانون نہیں تھا جس پر کام جاری ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر تعمیرات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ اس شعبہ کی ترقی سے جہاں عام لوگوں کو اپنا گھر بنانے کی سہولت حاصل ہو گی، وہاں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور تعمیرات سے وابستہ صنعتوں کا پہیہ چلنے سے ملکی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کی وباء کے باعث پوری دنیا کی معیشت مندی کا شکار ہوئی اور پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا۔ تعمیرات کے شعبہ کی ترقی سے ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کا مقصد غریب اور کم آمدنی والے لوگوں کو گھر بنانے میں مدد دینا اور ملک میں روزگارکے مواقع پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے شعبہ میں حکومت نے سہولیات کی پیشکش کی ہے، اس صنعت سے وابستہ افراد رواں سال 31 دسمبر تک ان سہولیات سے ضرور فائدہ اٹھائیں کیونکہ کورونا کی وباء کے پیش نظر عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 31 دسمبر تک مہلت ملی ہے، اس کے بعد یہ سہولت ختم ہو جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے تحت حکومت نے 30 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سکیم کے تحت پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر پر فی مکان تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ بینکوں کے قرضوں کے حصول میں بھی سہولیات دی جا رہی ہیں، پانچ مرلہ مکان کی تعمیر کے لئے بینک قرضے پر5 فیصد جبکہ 10 مرلہ مکان کی تعمیر کے لئے قرضہ پر 7 فیصد مارک اپ ادا کرنا ہو گا، مارک اپ کی باقی رقم پر حکومت کی جانب سے سبسڈی دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سہولت سے کم آمدنی والے طبقات کو اپنا گھر بنانے میں آسانی ہو گی اور مکان کی لاگت میں بھی واضح کمی آئے گی۔ حکومت نے بینکوں کو آمادہ کیا ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کا پانچ فیصد تعمیرات کے لئے مختص کریں کیونکہ اس وقت ملک کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ اس طرح ہاﺅسنگ و تعمیرات کے لئے 330 ارب روپے مختص ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ مالی وسائل کی دستیابی کے علاوہ تعمیرات کی انڈسٹری کے لئے دیگر رکاوٹوں کو بھی دور کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ صوبوں کے ساتھ مل کر ہاﺅسنگ کے منصوبوں کے لئے این او سی کی تعداد کم کی ہے جبکہ ون ونڈو آپریشن بھی شروع کیا ہے جس کے ذریعے کنسٹرکشن انڈسٹری اور بلڈرز کو آن لائن مسائل حل کرانے کی سہولت حاصل ہو گی۔ اس طرح نقشہ جات کی منظوری اور دیگر امور نمٹانے کے لئے بھی مدت متعین ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اس شعبہ کے لئے ٹیکسوں میں بھی کمی کی گئی ہے جس سے تعمیرات کی لاگت کم ہو جائے گی۔ ماضی میں کسی حکومت نے ہاﺅسنگ اور تعمیرات کے شعبہ اور کم آمدنی والے طبقہ کے لئے اپنا گھر بنانے میں سہولت دینے کے لئے اتنا کام نہیں کیا۔ اس لئے تمام لوگ ان سہولیات سے ہر ممکن فائدہ اٹھا سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here