لاہور ہائی کورٹ کا حکومت کو پٹرولیم بحران کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا حکم

کمیشن میں نیک نام افراد ہونے چاہیے، حکومتی ریکارڈ چھپانے کی کوشش کی گئی تو سخت کاروائی ہوگی، بحران سے متعلق حکومت اطمینان بخش جواب نہ دے سکی تو یہ گڈ گورننس کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہوگا : چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

83

لاہور : چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں بنچ نے ملک میں وقوع پذیر ہونے والے حالیہ پٹرولیم بحران کی تحقیقات کے لیے حکومت کو کمیشن قائم کرنےکی ہدایت کردی۔

معاملے کی سماعت کے دوران بنچ نے کمیشن کے قیام کا حکم دیا اور اٹارنی جنرل سے اس حوالے سے نام طلب کرلیے ۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم علی خان کا کہنا تھا کہ اگر اٹارنی جنرل کمیشن کے لیے نام پیش نہ کرسکے تو عدالت خود اس حوالے سے مناسب افراد کے نام دے گی۔

انکا کہنا تھا کہ ” مجھے کمیشن کے لیے زبردست اور نیک نام لوگ چاہیے، اگر کسی نے حکومتی ریکارڈ چھپانے کی کوشش کی تو اسکے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔”

یہ بھی پڑھیے:

پٹرول بحران ، اوگرا کی جانب سے مزید تین آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر جرمانے عائد

پٹرول بحران کیوں پیدا ہوا ؟ ندیم بابر کی بریفنگ، کابینہ کا عدم اطمینان، ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ

انکا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کے سیکرٹری کا عہدہ بہت بڑا ہے مگر وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں سستی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرنسپل سیکرٹری حکومت اور اسٹیبلسمنٹ چلاتا ہے مگر انہیں چار دفعہ بلائے جانے کے باوجود وہ حاضر نہیں ہوئے یہ بد انتظامی اور بیڈ گورننس کی انتہا ہے۔

مزید برآں انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ اگر حکومت پٹرولیم بحران سےمتعلق اطمینان بخش جواب نہ دے سکی تو  یہ اسکی گڈ گورننس کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہوگا معاملے کی سماعت 16 جولائی تک مؤخر کردی۔

واضح رہے کہ پچھلے ماہ پیدا ہونے والی پٹرول کی قلت کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

جس کی ابتدائی رپورٹ میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور اوگرا نے مطلوبہ مقدار میں پٹرول نہ رکھنے پر چھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر چار کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here