سرجیکل ماسکس مقامی سطح پر دستیاب ہوئے تو ہی برآمد کی اجازت دی جائے گی، رزاق داؤد

89

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ حکومت سرجیکل ماسکس کی برآمد پر غور کر رہی ہے، مقامی مارکیٹ میں ان ماسکس کی دستیابی کے مصدقہ اعدادوشمار ملنے کے بعد برآمد کی اجازت دی جائے گی۔

مشیر تجارت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ “سرجیکل ماسکس کی برآمدات پر غور کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے آج (جمعہ) کو وزارتِ تجارت میں ایک اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔ ایک بار ماسکس کی دستیابی کا مصدقہ ڈیٹا مل جائے تو پھر اس کی برآمدات کی اجازت دی جائے گی”۔

انہوں نے برآمدکنندگان سے مزید کچھ ہفتوں کے لیے مصدقہ اعدادوشمار سامنے آنے تک انتظار کرنے کی درخواست کی تاکہ حکومت سرجیکل ماسکس کی برآمدات سے متعلق درست فیصلہ کر سکے۔

رزاق داؤد کے ٹویٹ کے ردِ عمل میں بہت سے لوگوں نے ماسکس برآمد کرنے سے پہلے ملک میں سرجیکل ماسکس کے اچھے معیار اور ان کی دستیابی کو یقینی بنانے کی درخواست کی۔

ٹویٹر پر دیگر برآمدکنندگان نے رزاق داؤد کو عالمی خریداروں کی جانب سے پاکستانی تیارکردہ تیوک سوٹس کے بارے میں دلچسپی لینے سے متعلق بھی آگاہ کیا اور مذکورہ سوٹس کی برآمدات کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات میں 37.14 فیصد اضافہ ، درآمدات میں 126 فیصد کمی

برآمدات بڑھانے کے لیے میک ان پاکستان پالیسی پر تیزی سے عمل کیا جائے گا : رزاق داؤد

اس سے قبل، مشیر تجارت نے برآمدکنندگان سے دنیا بھر کی مارکیٹوں میں رسائی بڑھانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی کا ایک اہم حصہ جغرافیائی سطح پر برآمدات کی اقسام کو بڑھانا ہے۔

انہوں نے ڈی جی خان سیمنٹ کو فلپائن کی جانب سے برآمداتی آرڈر ملنے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنی کی چین میں کامیابی کا نتیجہ ہے۔ اسکے علاوہ مشیر تجارت نے جرمنی کے لگژری فیشن برانڈ Hugo Boss کا پاکستانی کمپنی کو کھیلوں کے ملبوسات بنانے کے لیے پہلی بار آرڈر دیے جانے کا اعلان بھی کیا تھا۔

اس سے قبل، 3 جولائی کو مشیرتجارت نے کہا تھا کہ حکومت ‘میک اِن پاکستان’ کی پالیسی کو ہر صورت جاری رکھے گی اور درآمدات کے متبادل اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے تیزی سے صنعتکاری کی طرف سفر کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تین سالہ منصوبے پر عمل پیرا ہے جس کے مطابق یہ خاص طور پر خام مال کے لیے ڈیوٹیز اور ٹیرف کو ختم کرے گی۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ حکومت کی خصوصی توجہ انجینئرنگ سیکٹر کی طرف ہے جس کا مقصد توانائی کے آلات کے شعبے، آٹو سیکٹر، ہوم اپلائنسسز، موبائل فونز، سینیٹری، سریمکس وئیر یوٹینسلز، کٹلری، پمپس اور موٹروں کی برآمدات کو بڑھانا ہے۔

26 جون کو مشیرتجارت نے اعلان کیا تھا کہ ڈاؤلینس نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان سے باہر مائیکرو ویو اوون کی برآمدات کا آغاز کرنا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here