’پاک افغان تجارت پانچ ارب ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب ڈالر رہ گئی‘

سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت پاک افغان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ، ٹرانزٹ ٹریڈ، ویزوں کے اجراء اور افغان مہاجرین سے متعلق معاملات کے جائزہ کے لئے 8 ٹاسک فورسز تشکیل

233

اسلام آباد: پاک افغان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی نے دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم میں ہونے والی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو طرفہ تجارت، جو 5 ارب ڈالر تھی، کم ہو کر ایک ارب ڈالر رہ گئی ہے۔

گزشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پاک افغان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر بحری امور علی زیدی ، وزیر اعظم کے مشیر ارباب شہزاد اور معاون خصوصی شہزاد اکبر، افغانستان کے لئے پاکستان کے خصوصی مندوب صادق خان، پاک افغان فرینڈ شپ کے گروپ کے ارکان، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاک۔ افغان تعلقات سے متعلق امورپرتبادلہ خیال کیا گیا اور پاک افغان تجارت میں اضافہ، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور افغان شہریوں کو پاکستانی ویزوں کے اجراء کے متعلق امور زیر غور آئے۔

پاک افغان ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران نے افغانستان اور پاکستان میں تجارتی حجم میں ہونے والی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تجارت 5 ارب امریکی ڈالر تھی جو اب کم ہو کر ایک ارب ڈالررہ گئی ہے۔

اجلاس میں اس کمی کی وجوہات اور اس میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور افغان شہریوں کو ویزوں کے اجراء کے سلسلے میں درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان قریبی ہمسائے ہونے کے ساتھ ساتھ مشترکہ مذہب، ثقافت، زبان اور تاریخ کے لازوال رشتوں کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں، دونوں میں دیرینہ دوستانہ تعلقات پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی سلامتی پر سمجھوتہ کئے بغیر افغان شہریوں کے لیے ویزوں کے اجراء میں درپیش مشکلات کو دور کیا جائے گا۔

سپیکر نے باہمی تجارت، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، ویزوں کے اجراء اور افغان مہاجرین سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لئے ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران اور متعلقہ محکموں کے افسران پر مشتمل 8 ٹاسک فورسز تشکیل دیں۔ یہ ٹاسک فورسز 15 دنوں میں ان معاملات سے متعلق اپنی سفارشات ایگزیکٹو کمیٹی کو پیش کریں گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی کے ساتھ منعقد کیے جائیں گے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں جنہیں سرحد کی دونوں جانب بسنے والی اقوام کے بہترین مفاد کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے تاہم ضابطہ کار میں موجود پیچیدگیوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

انہوں نے وزارت داخلہ اور ایف بی آر کو پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور پاک افغان تجارت میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ھزہ خیل ڈرائی پورٹ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن افتتاح کے ایک سال گزرنے کے باوجود یہ ڈرائی پورٹ بعض قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے کلیئر نہیں ہو سکا۔

انہوں نے ڈرائی پورٹ کو 15 دنوں میں کلیئر کر کے ایگزیکٹو کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

یاد رہے کہ پاک افغان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کا قیام 24 مارچ 2005ء کو عمل میں لایا گیا تھا اوراپنی تشکیل کے بعد یہ گروپ دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ پارلیمانی تعلقات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here