نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کا ریونیو ہدف حاصل نہ ہوپانے کا امکان

تین ماہ کے لیے تعینات ہونے والے نئے چئیرمین ایف بی آر جاوید غنی نے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کو معاملے سے آگاہ کردیا، کمیٹی کی جاوید غنی کوادارے کا ریگولر سربراہ بنانے کی سفارش

308

اسلام آباد : فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نئے سربراہ جاوید غنی نے خبر دی ہے کہ ادارے کے لیے نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا ریونیو ہدف پورا کرنا مشکل ہے۔

ایسا انہوں نے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس، ریونیو اور اکنامک افئیرز کو بریفنگ میں بتایا۔

کمیٹی کا اجلاس ممبر قومی اسمبلی فیض اللہ کی زیر صدارت ہوا جس کے شرکا نے ممبر ان لینڈ ریونیو  ڈاکٹر محمد اشفاق احمد کی انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں ری فنڈز کے اجرا کے حوالے سے بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔

یہ بھی پڑھیے:

ایک کھرب روپے کی مبینہ کرپشن کا الزام، ایف بی آر اور خزانہ ڈویژن سے جواب طلب

مالی سال 2020ء میں 1150 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی جائے گی : ایف بی آر

ڈاکٹر اشفاق نے کیمٹی کو آگاہ کیا کہ مالی سال 2020 میں ایف بی آر نے ری فنڈز کی مد میں 174.8 ارب روپے جاری کیے  اس کے علاوہ  کورونا کے تناظر میں وزیراعظم کے ریلیف پیکج کے تحت بھی 100 ارب روپے کے ری فنڈز جاری کیے گئے۔

اس پر ایم این اے نوید قمر نے ایف بی آر کو  جاری ہونے والے ری فنڈز کے اصل حجم  کے علاوہ اس ضمن میں پھنسی ہوئی رقم کا حجم بھی بتانے کی ہدایت کی۔

اس موقع پر حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ری فنڈز کی مد میں پھنسی ہوئی رقم کا کل حجم 600 ارب روپے ہے انھوں نے ایف بی آر کو اس حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

مسلم لیگ ن کی ایم این اے آئیش غوث بخش نے ایف بی آر پر صرف منظور نظر افراد کو ری فنڈز جاری کرنے کا الزام عائد کیا۔

کمیٹی کے چئیرمین نے کمیٹی ممبران کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے ایف بی آر کو معاملے کے حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے لیے ایک دن کی مہلت دے دی۔

مزید برآں کمیٹی نے  تین ماہ کے لیے ایف بی آر چئیرمین کا عہدہ سنبھالنے والے جاوید غنی کو ادارے کا ریگولر سربراہ بنانے کی سفارش کردی ۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here