گیارہ ماہ میں پاکستان کے خدمات کے شعبے کا تجارتی خسارہ 41.6 فیصد کم ہوگیا

رواں مالی سال کے گیارہ ماہ میں خدمات کے شعبے کی برآمدات کا مالی حجم 5.05 ارب جبکہ درآمدات کا حجم 7.75 ارب ڈالر رہا

119

اسلام آباد : کورونا لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان کے خدمات کے شعبے کی برآمدات گزشتہ برس کے مئی کی نسبت رواں برس مئی میں 16.72 فیصد کم ہوگئیں۔

مئی 2019 میں اس شعبے کی برآمدات کا مالی حجم 46 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھا جبکہ مئی 2020 میں انکا حجم 39 کروڑ کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

مجموعی طور پر رواں مالی سال کے گیارہ ماہ میں سروسز برآمدات 5.05 ارب ڈالر رہیں جوکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 5.52 ارب ڈالر تھیں یوں ان گیارہ ماہ میں خدمات کے شعبے کی برآمدات میں 8.52 فیصد کمی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے:

برآمدات بڑھانے کے لیے میک ان پاکستان پالیسی پر تیزی سے عمل کیا جائے گا : رزاق داؤد

برآمدات بڑھانے کیلئے پاکستان کی ’مینگو ڈپلومیسی‘

دوسری طرف اس شعبے کی درآمدات میں بھی کمی واقع ہوئی ہےاور یہ رواں مالی سال کے جولائی تا مئی کے عرصے میں 23.61 فیصد کم ہوکر 7.75 ارب ڈالر کی سطح پر آگئیں۔

گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ان درآمدات کا حجم 10.14 ارب ڈالر تھا۔

مئی 2020 میں خدمات کے شعبے کی درآمدات 59.79 فیصد کم ہوکر 46 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہوگئیں۔

یوں رواں مالی سال کے گیارہ ماہ میں سروسز کے شعبے کا تجاری خسارہ 41.63 فیصد کم ہوکر 2.7 ارب ڈالر ہوگیا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 4.62 ارب ڈالر تھا۔

یہاں یہ بتانا بہتر ہوگا کہ جی ڈی پی گروتھ میں سروسز سیکٹر کا حصہ 61.4 فیصد ہے اور اسکے ذیلی شعبہ جات میں فنانس اینڈ انشورنس، ٹرانسپورٹ، سٹوریج، ہول سیل اور ریٹیل کاروبار، دفاع آتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here