پی ٹی ڈی سی ملازمین یونین کے بہکاوے میں نہ آئیں، حکومتی پیکج قبول کر لیں : زلفی بخاری

پی ٹی ڈی سی کو بند نہیں بلکہ تنظیموں نو کی جار ہی ہے، غیر قانونی بھرتیوں اور غلط پالیسیوں کے باعث ادارہ کئی برسوں سے خسارے میں چل رہا تھا، ملازمیں کو بہترین گولڈن ہینڈ شیک آفر دی گئی ہے مگر یونین لیڈران ذاتی مفاد کی خاطر انھیں اسے قبول کرنے سے روک روہے ہیں: پی ٹی ڈی سی چئیرمین

282

اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاحت اور پاکستان ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی ) کے چئرمین زلفی بخاری نے محکمے کے نکالے جانے والے ملازمین پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ 1.3 ارب روپے کے پیکج کو قبول کر لیں۔

زلفی بخاری نے کہا ہے کہ پی ٹی ڈی سی کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کے تحت ایک زبردست پیکج کی پیشکش ہے جسے وہ یونین لیڈران کے ایماء پر ٹھکرا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونین رہنماء ملازمین کو اپنے ذاتی مفادات کے تحت امدادی پیکج قبول کرنے سے روک رہے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی کوشش کے باوجود عدالت چلے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

سعودی عرب: سیاحت کی ترقی کے لئے چار ارب ڈالر کا فنڈ قائم 

کووڈ۔ 19: خیبر پختونخوا میں سیاحت کو 4 ارب روپے کا نقصان

معاون خصوصی برائے سیاحت نے بتایا کہ ملازمین کو جس پیکج کی پیشکش کی جا رہی ہے اس میں تین بنیادی تنخواہوں، پروویڈنٹ فنڈ، ایک سال کی چھٹی کا معاوضہ، اور تنخواہوں اور الاؤنسز کے بقایا جات شامل ہیں۔

انہوں نے ٹورزم کارپوریشن کو بند کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ  بے کار بزنس ماڈل، غیر قانونی بھرتیوں اور سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ادارہ کئی برسوں سے خسارے میں چل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی تنظیمِ نو کی جارہی ہے اور اس چیز کا فیصلہ وفاقی کابینہ کی جانب سے کیا گیا ہے جس کا مقصد اسکو منافع بخش بنا کر مزید نوکریاں پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم نو کا مقصد ادارے کو ایک آپریٹر کے بجائے پالیسی ساز بنانا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک چوٹی کے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرلی گئیں ہیں ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹورازم انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے ایک دس سالہ روڈ میپ تشکیل دے دیا گیا ہے جس کا مقصد اس شعبے کے امکانات کا استعمال کرتے ہوئے معاشی ترقی کا حصول اور غربت کا خاتمہ ہے ۔

اسکے علاوہ سیاحت کے فروغ کے لیے حکومت کے پانچ سالہ ایکشن پروگرام کا بھی نفاذ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے حکومت جلد ہی ‘برینڈ پاکستان’ کا آغاز کرے گی جو کہ ایک ای پورٹل ہوگا جو کہ سیاحوں کو ہوٹلوں، انکی ریٹنگز، موسموں، ٹریفک اور دوسری معلومات فراہم کرے گا۔

انکا مزید بتانا تھا کہ 2021 میں پاکستان ورلڈ ٹورازم فورم کی میزبانی کرے گا جبکہ 2022 میں ڈی 8 سمٹ بھی پاکستان میں منعقد ہو گی جس میں ڈی 8 ممالک کے وزرائے سیاحت شرکت کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here