شمالی وزیرستان : آپریشن کا نشانہ بننے والےمیران شاہ بازار کے تاجروں کو زر کفارہ کی ادائیگی شروع

آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں میران شاہ کے 6 ہزار 969 تاجروں کا کاروبار تباہ ہوگیا تھا، نقصان کی بھرپائی کے لیے حکومت نے پہلے مرحلے میں 5.76 ارب روپے کے 200 چیک جاری کردیے، متاثرہ تاجروں کی فہرست میں ایسے نام بھی شامل جن کی میران شاہ بازار میں دکان تھی ہی نہیں۔

200

پشاور : خیبر پختون خوا حکومت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متاثر ہونے والے دکانداروں کو پانچ سال بعد امدادی رقوم کی ادائیگی شروع کردی۔

تفصیلات کے مطابق 2014 میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے 6 ہزار 969 تاجر متاثر ہوئے تھے اور ان تاجروں نے آپریشن میں مارکیٹ اور تجارتی سامان کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 21 ارب روپے لگایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

خیبرپختونخوا میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود کاروباری خواتین کو مشکلات کا سامنا

جاز نے سابق فاٹا میں انٹرنیٹ کی فراہمی کا ٹھیکہ حاصل کرلیا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کےڈائریکٹر جنرل پرویز سبط خیل کا کہنا تھا صوبائی کابینہ نے شمالی وزیرستان میں آپریشن سےمتاثرہ تاجروں کو زر کفارہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے  جس میں سیکرٹری داخلہ،  ریلیف سیکرٹری اور صوبائی وزیر خزانہ بھی شامل ہیں۔

ماتثرہ تاجروں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد صوبائی حکومت نے مجموعی طور پر 5.76 ارب روپے کے 200 چیک جاری کردیے جبکہ ماقی ماندہ تاجروں میں انکوائری کے بعد ہر ہفتے چیک تقسیم کیے جائیں گے۔

معاملے کے  حوالے سے ممبر صوبائی اسمبلی میر کلام وزیر کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں میران شاہ میں کاروبار مکمل تباہ ہوگیا تھا تاہم زر کفارہ کی ادائیگی سے  تاجروں کے نقصان کی کچھ بھرپائی ہوگی جس سے کاروبار دوبارہ شروع ہوگا اورعلاقے میں ملازمتیں پیدا ہونگی۔

 انکا کہنا تھا کہ میران شاہ کے تاجروں نے نقصان کا اندازہ 21 ارب روپے لگایا تھا مگر ابھی تک ضلعی انتظامیہ نے ان تاجروں کو جن کا فوجی آپریشن کے نتیجے میں تیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا تھا کو صرف 14 لاکھ روپے جاری کیے ہیں جبکہ وہ تاجر جن کے نقصان کا حجم بیس سے تیس لاکھ روپے ہے کو صرف آٹھ لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں تاہم وہ تاجر جنھوں نے تین لاکھ روپے نقصان کا دعوی کیا تھا انہیں پوری رقم ادا کردی گئی ہے۔

اُدھر دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے متاثر ہونے والے تاجرون کو زر کفارہ کی ادائیگی میں بھی کرپشن کی خبریں سامنے آنی لگی ہیں۔

ذرائع کا پرافٹ اردو کو بتانا تھا کہ کے پی حکومت نے متاثرہ تاجروں کی فہرست میں ان لوگوں کا نام بھی شامل کردیا ہے جن کی میران شاہ بازار میں دکان تھی ہی نہیں۔

مزید برآں متاثرہ تاجروں کو رقوم کی ادائیگی Accelerated Implementation Plan سے کی جارہی ہے جو کہ قبائلی عوام کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ یہ پلان قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے بنایا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here