سٹیٹ بینک کا کورونا وائرس کے علاوہ دیگر مریضوں کے علاج کے لیے ہسپتالوں کو ستمبر تک ری فنانس سہولت دینے کا فیصلہ

281

کراچی: پاکستان میں ہیلتھ کئیر سسٹم کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہسپتالوں کو کورونا وائرس کے علاوہ  دیگر مریضوں کے علاج معالجے اور انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ری فنانس سہولت میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “ملک میں طبی سہولتوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے مرکزی بینک نے ہسپتالوں کو کورونا وائرس کے علاوہ دیگر مریضوں کے علاج معالجے کے لیے یہ سہولت حاصل کرنے کی اجازت دی ہے”۔

مزید برآں،ری فنانس کی سہولت ماسکس، ڈریسز، ٹیسٹنگ کٹس، ہسپتال بیڈ اور وینٹی لیٹرز جیسے طبی سازوسامان تیار کرنے والوں کو بھی اس سکیم سے استعفادہ حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

17 مارچ 2020 کو مرکزی بینک نے Refinance Facility to Combat Covid-19 RFCC نامی ری فنانس سکیم متعارف کرائی تھی، جو کورونا وائرس وبا کے دوران ہیلتھ سیکٹر کی معاونت کے لیے بنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

سٹیٹ بینک کا روزگار کے تحفظ کی ’ری فنانس سکیم‘ میں ستمبر تک توسیع کا فیصلہ

سٹیٹ بینک کا 40 ہزار کے قومی پرائز بانڈز کی تبدیلی کے لیے 31 دسمبر تک توسیع کا فیصلہ

اس سکیم کے تحت، سٹیٹ بینک دیگر بینکوں کو 0 فیصد مارک اپ پر قرضے فراہم کرتا ہے جو ہسپتالوں اور میڈیکل سینٹرز سے زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی مدت کے لیے تین فیصد چارج کر سکتے ہیں، ہسپتالوں کو ضرورت پڑنے پر یہ قرضے میڈیکل آلات اور آئسولیشن وارڈ کے سامان کی خریداری کے لیے دیے جائیں گے۔ یہ سکیم ستمبر 2020 تک جاری رہے گی۔

مذکورہ سکیم کی کوریج میں 6 اپریل کوجزوی طور پر توسیع کی گئی تھی جبکہ زیادہ سے زیادہ ری فنانسنگ حد 30 اپریل تک بڑھائی گئی تھی۔

سکیم کے آغاز کے بعد اسکی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کیونکہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 2 جولائی تک ہسپتالوں کے لیے 6.4 ارب روپے کے رعایتی کریڈٹ کی منظوری دی جاچکی ہے۔

نئے سرکلر کے مطابق موجودہ یا نئے تعمیر کیے جانے والے ہسپتال جنہیں ہیلتھ انفراسٹرکچر میں جدت درکار ہو وہ اس سہولت سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے ذریعے مریضوں کو آئی سی یو، وینٹی لیٹرز ایمرجنسی سامان اور دیگر بنیادی طبی سہولتیں  فراہم کی جارہی ہیں۔

مرکزی بینک نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سکیم ایک سبسڈائز سہولت دے رہی ہے اور یہ کہ “کچھ بینکوں کو انکی سی ایس آر سروس کے طور پر کسی حد تک کم مارجن پر یہ سہولت دی جارہی ہے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here