ٹڈی دل کا انوکھا حل : حکومت نے عوام کی مدد سے ٹڈیاں پکڑ کر کھاد بنانے کا منصوبہ بنالیا

عوام کو ٹڈیاں پکڑنے کی ترغیب ایک سکیم کے تحت دی جائے گی، ایک لاکھ ٹن ٹڈیوں سے ستر ہزار ٹن کھاد تیار کی جائے گی جو کہ زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے انتہائی مفید ہوگی، ٹڈیاں پکڑنے والا خاندان ماہانہ چھ ہزار روپے کما سکے گا، ٹڈیوں سے بننے والی کھاد برآمد بھی کی جائے گی

118

اسلام آباد : ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے تھر اور چولستان میں بائیو کمپوسٹ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

لاکھوں ٹڈیوں کے استعمال سے بائیو کمپوسٹ پروگرام کا آغاز اور آرگانک فارمنگ کو فروغ دینے کا پائلٹ پراجیکٹ منظوری کے مرحلے میں ہے۔

وزارت خوراک کے حکام کے مطابق کہ اس منصوبے کی پائلٹ ٹیسٹنگ چولستان اور تھر میں کی جائے گی اور دونوں علاقوں کے دس فیصد عوام بھی منصوبے کا حصہ بن گئے تو ٹڈی دل کے مقابلے کے لیے دو لاکھ بیس ہزار افراد پر مشتمل فورس قائم ہوجائے گی۔

وزارت خوراک کو اُمید ہے کہ یہ منصوبہ ماحول اور فصلوں کے بچاؤ میں بے حد معاون ثابت ہوگا۔

مزید برآں اس منصوبے سے زمین کی زرخیزی میں بھی بہتری آئے گی اور ٹڈی دل سے بنی کھاد سے فصلوں کی پیداوار میں بھی سات سے نو فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹڈی دل کا حملہ نیا مگر گندم کا بحران تو نیا نہیں!

ٹڈی دل کی یلغار: زراعت سے 75 فیصد آمدنی متاثر ہونے کا خدشہ

منصوبے کی ابتدا میں ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے ایک ترغیباتی اسکیم شروع کی جائے گی۔

وزارت خوراک کے مطابق کچھ عرصے بعد اس طریقے سے ٹڈیوں کے بغیر بھی کھاد بنائی جاسکے گی اور منصوبے کے پہلے سال میں ایک ارب روپے کی کھاد بنائی جائے گی ۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس طریقے کے تحت ایک فیصد فصلوں کو بھی نقصان سے بچایا جاسکا تو اس سے 32 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

منصوبے کے تحت ایک لاکھ ٹن ٹڈیوں کی مدد سے ستر ہزار ٹن کھاد تیار کی جائے گی اور اس منصوبے کا حصہ بننے والا ہر خاندان ماہانہ چھ ہزار روپے کما سکے گا اور منصوبے کی مکمل لاگت تین سال میں پوری ہوجائے گی۔

منصوبے کے نفاذ کے لیے چار نکات تشکیل دیے گئے ہیں جس کے تحت اس کا پائلٹ پراجیکٹ چولستان اور تھر میں شروع کیا جائے گا جو کہ اگلے تین سے چار موسم گرما تک چلے گا۔

لوگوں کی مدد سے ٹڈیاں پکڑنے کا مقصد اس منصوبے کے لیے ایک انعامی سکیم کے تحت عوام کی مدد سے ٹڈیاں حاصل کرنا ہے۔

عوام کو منصوبے کا حصہ بنانے کے لیے مختلف فلاحی و سماجی تنظیموں کی مدد لی جائے گی۔

کھاد کی تیاری ماہرین کی نگرانی میں کی جائے گی جبکہ ٹڈیاں پکڑنے والی عوام کو معاوضہ احساس پروگرام کے ذریعے دیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت کھاد بنانے کے لیے تھرپارکر، چولستان، تربت اور لکی مروت میں 14 مقامات کی نشاندہی کرلی گئی جہاں پلانٹس لگائے جاٗئیں گے۔

مزید برآں کھاد کی پروموشن، پیکجنگ، لیبلنگ، مارکیٹنگ اور برینڈنگ کے لیے نجی شعبے سے تعاون حاصل کیا جائے گا اور سرٹیفائڈ مصنوعات کو برآمد بھی کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here